تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 595
تاریخ احمدیت۔جلد 22 595 سال 1964ء پڑا۔لیکن اس عرصہ میں انہوں نے اتنا پڑھ لیا کہ جس سے ان کے دل میں قرآن شریف اور اسلام کی عظمت گھر کر گئی اور حضرت مسیح موعود کے ساتھ بھی انہیں حسن ظنی پیدا ہوگئی۔لیکن ان پر چونکہ سیاست غالب تھی اس لئے وہ کانگریس میں قدم رکھنے کے بعد سیاست اور دیگر وجوہ کی بناء پر سلسلہ کے مخالف ہو گئے تاہم بقول حضرت سید محمد اشرف صاحب لاہور میں متعدد ملاقاتوں میں اس امر کا اعتراف تو وہ کھلم کھلا کرتے رہے کہ مجھے تو مولوی بقا پوری صاحب نے مسلمان بنایا ہے وگرنہ میں اسلام کیا خدا کو بھی نہ مانتا تھا۔خلافت ثانیہ کے ابتدائی سالوں میں آپ کو حضرت حافظ روشن علی صاحب، حضرت میر محمد الحق صاحب اور حضرت مفتی محمد صادق صاحب جیسے بزرگان سلسلہ کے ساتھ سرگودھا، ہوشیار پور وغیرہ مقامات پر مباحثوں کے سلسلے میں مرکز سے بھجوایا گیا۔آپ نے ہر جگہ ایسے مدلل اور مسکت جوابات دیئے کہ سننے والے عش عش کر اٹھے۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب ان مباحثات کا تذکرہ کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:۔مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری میں بفضلہ یہ خوبی ہے کہ ان کی تقریر مدلل ہونے کے ساتھ ساتھ عام فہم اور فریق ثانی کے دلوں کو کھینچنے کی تاثیر رکھتی ہے اور فریق ثانی کے مباحث خواہ کیسی ہی اشتعال انگیزی کریں مولوی صاحب کبھی غصہ میں نہیں آتے تھے۔۱۹۱۷ء کا واقعہ ہے جبکہ آپ امرتسر میں اور حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی لا ہور میں اور حضرت حافظ غلام رسول صاحب جہلم میں مقرر تھے۔آپ کو مرکز سے خط ملا کہ سید والہ ضلع لائلپور حال ضلع ننکانہ ) میں فلاں تاریخ کو جلسہ ہے آپ تینوں کیلئے جماعت نے درخواست کی ہے کہ اس میں شرکت فرما ئیں۔دوسرے دو عالم بھی پہنچ جائیں گے۔جلسہ تین دن تھا اور ساتھ مناظرہ بھی۔آپ کو جڑانوالہ سے تانگہ نہ ملا اس لئے آپ ایک دن تاخیر سے پہنچے۔معلوم ہوا کہ دوسرے بزرگ کسی معذوری کے باعث تشریف نہیں لا سکے۔احباب جماعت بہت مشوش تھے لیکن آپ نے فرمایا تسلی رکھیں اور صداقت اسلام پر مؤثر تقریر شروع کر دی۔غیر احمدی، آریہ اور عیسائی اصحاب حیرت زدہ رہ گئے کہ یہ مولوی صاحب خوب ہیں سترہ میل ٹانگے پر سفر کر کے بغیر کھائے پیئے گرمی کے موسم میں آتے ہی تقریر میں مشغول ہو گئے۔بڑے باہمت شخص ہیں۔پہلے دن مباحثہ اور سوال و جواب کے لئے آریہ اٹھے۔دوسرے دن مسئلہ وفات مسیح اور امکان نبوت پر تقریریں اور سوال و جواب ہوئے۔تیسرے