تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 583
تاریخ احمدیت۔جلد 22 583 سال 1964ء رنگساز صدر بازار کیمپ میرٹھ کے پاس ہو گا )۔اس کے بعد ہم کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے ملنے کا اشتیاق ہو گیا اور میں نے خان صاحب موصوف سے عرض کیا کہ اگر حضرت اقدس میر ٹھ کے قرب و جوار میں تشریف لاویں تو آپ مجھ کو ضرور اطلاع دیں۔ایسے عظیم الشان شخص کو نہ دیکھنا بڑی بدنصیبی ہے۔اس وقت بیعت کرنے کا مجھ کو خیال بھی نہ تھا۔اس کے بعد ۱۹۰۴ء میں زلزلہ عظیمہ آیا جس کے متعلق یہ کہا گیا کہ یہ حضرت مسیح موعود کی پیشگوئی کے مطابق آیا ہے۔اس کے بعد ایک دن خان صاحب موصوف نے مجھ سے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود دہلی تشریف لا رہے ہیں۔کیا آپ زیارت کیلئے چلیں گے۔میں نے آمادگی ظاہر کر دی۔حضرت اقدس جب دہلی تشریف لائے تو خان صاحب موصوف نے مجھ سے چلنے کیلئے ارشاد فرمایا۔چنانچہ میں ان کے ہمراہ دہلی روانہ ہو گیا۔دہلی میں حضرت اقدس کا قیام الف خان والی حویلی میں ج محلہ چتلی قبر میں واقع ہے تھا۔میں اور خان صاحب موصوف بذریعہ ریل دہلی پہنچے۔اس وقت غالباً ۱۲ یا ایک بجے کا وقت تھا۔حضرت اقدس مسیح موعود مکان کے اوپر کے حصہ میں تشریف رکھتے تھے اور نیچے اور دوست ٹھہرے ہوئے تھے۔مکان میں داخل ہوتے ہوئے میری نظر مولوی محمد احسن صاحب پر پڑی۔چونکہ ان سے میرا تعارف میرٹھ کے قیام کے وقت ہو چکا تھا میں ان کے پاس بیٹھ کر باتیں کرنے لگا۔تھوڑی دیر میں غالبا خان صاحب نے جو اس برآمدہ میں بیٹھے تھے جس کے اوپر کے حصہ میں حضرت اقدس کا قیام تھا۔مجھ کو اپنے پاس بلا لیا۔میں ایک چار پائی پر پائینتی کی طرف بیٹھ گیا اور باتیں کرنے لگا۔جہاں میں بیٹھا تھا اس کے قریب ہی زینہ تھا جس کے ذریعہ حضرت اقدس اوپر تشریف لے جاتے تھے۔اس طرف میری پشت تھی۔تھوڑی دیر بعد حضرت اقدس کو ٹھے پر سے نیچے تشریف لائے۔میری چونکہ سیڑھیوں کی طرف پشت تھی میں نے حضرت اقدس کو اوپر سے نیچے تشریف لاتے ہوئے نہیں دیکھا۔حضور آہستگی سے اتر آئے اور میرے برابر پلنگ کی پائینتی پر بیٹھ گئے۔( نوٹ : یہ واقعہ حضور کی سادگی اور بے تکلفی پر دلالت کرتا ہے۔) جب حضور بیٹھ گئے تو کسی نے مجھے کو بتلایا کہ حضرت صاحب تشریف لے آئے۔اس وقت میں گھبرا کر وہاں سے اٹھنا چاہتا تھا کہ حضرت صاحب نے ارشاد فرمایا کہ یہاں ہی بیٹھے رہیں۔یہ یاد نہیں کہ حضور نے مجھ کو بازو سے پکڑ کر بٹھا دیا یا صرف زبان سے ارشاد فرمایا۔حضرت صاحب کے تشریف لانے کے بعد تمام دوستوں کو جو مکان کے مختلف حصوں میں قیام پذیر تھے اطلاع ہوگئی اور مکان میں ایک ہلچل مچ گئی۔اس قدر یاد ہے کہ غالباً خان صاحب نے حضور کی خدمت میں