تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 582
تاریخ احمدیت۔جلد 22 582 سال 1964ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جلیل القدر صحابہ کرام کا انتقال اس سال حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے متعد دصحابہ کرام انتقال کر گئے۔جس کے نتیجہ میں خدا کے مقدس مسیح کی زیارت کرنے والے اور فیض صحبت اٹھانے والے بزرگان کا مقدس گروہ پہلے سے بھی بہت کم رہ گیا۔حضرت حامد حسین خان صاحب مراد آبادی ولادت: ۱۸۷۹ء بیعت: اکتوبر یا نومبر ۱۹۰۵ء۔وفات: یکم جنوری ۱۹۶۴ء حضرت خان صاحب قبول احمدیت کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:۔میں ۱۹۰۵ء میں علیگڑھ کالج سے آکر میرٹھ میں ملا زم ہوا تھا۔میری ملازمت کے کچھ عرصہ بعد مکرمی خانصا حب ذوالفقار علی خان صاحب به سبیل تبادلہ بعہدہ انسپکٹر آبکاری میرٹھ میں تشریف لے آئے۔آپ چونکہ احمدی تھے اور حضرت مسیح موعود کی بیعت کر چکے تھے۔لہذا آپ کے گھر پر دینی ذکر و اذکار ہونے لگا۔اور شیخ عبدالرشید صاحب زمیندار ساکن محلہ رنگ ساز صدر بازار میرٹھ کیمپ اور مولوی عبدالرحیم صاحب وغیرہ خان صاحب موصوف کے گھر پر آنے جانے لگے۔خان صاحب موصوف سے چونکہ مجھے بوجہ علی گڑھ کالج میں تعلیم حاصل کرنے کے محبت تھی اس لئے میری نشست و برخاست بھی خان صاحب کے گھر پر ہونے لگی۔چنانچہ میں نے کتابیں دیکھنے کا شوق ظاہر کیا تو حضرت اقدس مسیح موعود کی چھوٹی چھوٹی تصانیف خان صاحب نے مجھ کو دیں جو میں نے (غالبا میں نے برکات الدعا اول پڑھی تھی ) پڑھیں۔اس کے بعد عسل مصفی مجھ کو دی گئی۔وہ میں نے دیکھنا شروع کی ہی تھی کہ مولوی محمد احسن صاحب امروہی خان صاحب کے یہاں تشریف لائے اور میرٹھ میں مناظرہ کی طرح پڑ گئی۔اس وقت صرف ایک ہی مسئلہ زیر بحث تھا اور وہ وفات مسیح کا مسئلہ تھا۔مناظرہ وغیرہ تو میرٹھ کے شریر اور فسادی لوگوں کے باعث نہ ہوالیکن مولوی محمد احسن صاحب مرحوم کی تقریر ضرور میں نے وفات مسیح کے متعلق سنی۔میرٹھ کی پبلک سے جو جھگڑا مناظرہ کے متعلق ہوا اس کے حالات ایک رسالہ کی صورت میں شائع کئے گئے۔اس میں میرا نام بھی ہے۔(غالبا وہ دارالامان کی لائبریری میں ہوگا۔اگر دارالامان کی لائبریری میں نہ ہو تو شیخ عبدالرشید صاحب زمیندار ساکن محله