تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 561
تاریخ احمدیت۔جلد 22 561 سال 1964ء نے سیدنا حضرت خلیفة المسیح الثانی المصلح الموعود کا مندرجہ ذیل بصیرت افروز پیغام پڑھ کرسنایا۔حضور کا یہ پیغام بھی حضور کی ایک تقریر کے اقتباس پر مشتمل تھا:۔آپ لوگ جلسے پر آئے تقریریں سنیں اور جلسہ ختم ہو گیا۔اس جگہ آنے اور تقریریں سننے کا آخر کوئی فائدہ ہونا چاہیئے ورنہ آ کر خالی ہاتھ چلے جانا تو اپنے اوقات اور اموال کو ضائع کرنا ہے۔پس جلسہ سالانہ سے فائدہ اٹھاؤ اور کوشش کرو کہ تم طیر بن جاؤ اور ہد ہد والے کمال تم میں آجائیں۔اگر سلیمان کی امت میں سے ایک شخص جس کا نام ہد ہد تھا اتنے کمال اپنے اندر پیدا کر سکتا ہے کہ توحید کے باریک اسرار کا اُسے علم ہو جاتا ہے، سیاست سے وہ واقف ہوتا ہے،سلیمان شام میں ہوتے ہیں اور وہ یمن کی خبر انہیں پہنچا دیتا ہے اور کہتا ہے کہ وہاں جو شرک نظر آتا ہے اُس کو دور کرنا چاہیئے حالانکہ سلیمان صرف ایک قوم کی طرف مبعوث ہوئے تھے تو وہ قوم جسے خدا نے یہ کہا ہے کہ جاؤ اور ساری دنیا میں میرا پیغام پہنچاؤ اس کے افراد کے اندرا گر مذہب کا درد نہ ہو تو یہ کتنی شرم کی بات ہوگی۔غالباً اسی وجہ سے خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو شرمانے کیلئے یہ قصہ بیان کیا ہے اور بتایا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے مقابلہ میں تو سلیمان کی امت ایسی ہی ہے جیسے باز کے مقابلہ میں ہد ہد۔پس جب ہد ہد یہ کمال دکھا سکتا ہے تو بازوں کو اپنے اندر جو کمالات پیدا کرنے چاہئیں وہ کسی سے مخفی نہیں ہو سکتے۔پس اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بازو! اپنے اندر جوش ، اخلاص اور ہمت پیدا کرو تم آسمان کی طرف اُڑ و کیونکہ تمہارا خدا اوپر ہے۔تم نیچے مت دیکھو اور معمولی معمولی باتوں کے پیچھے مت پڑو کیونکہ اللہ تعالیٰ تمہیں طائر بنانا چاہتا ہے تم اپنی نگاہیں ہمیشہ اونچی رکھو کیونکہ تم مسلمان ہو اور مسلمان کے برابر اور کوئی نہیں ہوتا۔پس جب اپنے گھروں میں جاؤ تو اس ارادے اور نیت کے ساتھ جاؤ کہ آئندہ ہم۔۔طائر بنیں گے جو ہواؤں میں اڑتے پھرتے ہیں اور اپنے خدا کی آواز کو سننے کی کوشش کریں گے۔اس کے بعد دوست دعا کریں اپنے لئے بھی ، اپنے رشتہ داروں کے لئے بھی جو احمدی ہیں کہ انہیں روحانی ترقی نصیب ہو اور جو غیر احمدی ہیں ان کے لئے بھی کہ انہیں ہدایت حاصل ہو۔اسی طرح اپنے شہر والوں کے لئے ، اپنے ہمسائیوں کے لئے اور اپنے ملک والوں کے لئے دعائیں کرو اور خصوصیت سے جماعت کے لئے یہ دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ ہماری جماعت میں سچا تقوی، پرہیز گاری اور تقدس پیدا کرے کیونکہ بغیر اس کے کہ ہم اسلام کا عملی نمونہ ہوں ہماری زندگیاں کسی کام کی نہیں۔پس