تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 557 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 557

تاریخ احمدیت۔جلد 22 557 سال 1964ء ( جنرل سیکرٹری جماعت احمدیہ کیپ ٹاؤن)، مسٹر رفیق چانن صاحب (سوئٹزر لینڈ )، مس جمیلہ کوپ مین صاحبہ (جرمنی) مسٹر علی حسن کاسٹرز (جرمنی) مسٹر جانسن (انگلستان) ہمسٹر چوانگ شاہ صاحب (چین)۔ان غیر ملکی معزز مہمانوں کے علاوہ بیرونی ممالک میں مقیم جن احمدی پاکستانیوں کو اس تاریخی جلسہ میں شامل ہونے کی سعادت نصیب ہوئی ان کے نام یہ ہیں :۔حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب حج عالمی عدالت (ہالینڈ) منور احمد صاحب نمی پریذیڈنٹ جماعت احمدیہ گلاسکو) ، عبدالمنان دین صاحب مع اہلیہ محترمہ، عبدالعزیز دین صاحب و اہلیہ محترمہ، جمعدار کرم دین صاحب (لندن)، سیٹھ عبدالستار صاحب، چوہدری رحمت خاں صاحب، ملک محمد عثمان صاحب، سید بشیر احمد شاہ صاحب، ناصرہ ندیم صاحبہ پریذیڈنٹ لجنہ اماءاللہ نیروبی، منیرہ ندیم صاحبہ، منصور احمد صاحب ندیم، فاروق احمد صاحب ندیم ، اقبال بیگم صاحبہ، مسٹر بشیر احمد صاحب برمی مع اہل وعیال ( کینیا)، بشیر حبیب صاحب، ڈاکٹر بشیر احمد صاحب ڈار، حبیبہ بیگم صاحبہ (ٹانگانیکا)، میاں محمد حسین صاحب ( یوگنڈا)، ڈاکٹر عبداللطیف صاحب وڈاکٹر محمد خان صاحب (لندن)، مظفر حسن صاحب، جمعدار غلام رسول صاحب، عزیز احمد صاحب، محمد افضل صاحب مع اہلیہ محترمہ عبدالرحیم صاحب ( کویت) - 2 اس اعتبار سے یہ جلسہ سالانہ دنیا کی مختلف قوموں اور نسلوں کا ایک نمائندہ اجتماع تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت اور خلافت ثانیہ کی حقانیت کا منہ بولتا نشان تھا۔سید نا حضرت خلیفہ امسیح الثانی کا افتتا حی پیغام 126 جلسہ سالانہ ربوہ ۱۹۶۴ء کے افتتاحی اجلاس میں اجتماعی دعا سے قبل محترم مولانا جلال الدین صاحب شمس نے سیدنا حضرت خلیفتہ مسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا مندرجہ ذیل بصیرت افروز پیغام جو حضور کی ایک پُر معارف تقریر کے اقتباس پر مشتمل تھا پڑھ کر سنایا:۔برادران جماعت! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ہماری موجودہ مثال کمزور پرندوں کی سی ہے جو دریا کے کسی خشک حصہ میں ستانے کے لئے بیٹھ جاتے ہیں اور شکاری جو اُن کی تاک میں لگا ہوا ہوتا ہے ان پر فائر کر دیتا ہے اور وہ پرندے وہاں سے اڑ کر ایک دوسری جگہ پر جا کر بیٹھ جاتے ہیں۔ہم بھی آرام اور اطمینان سے دنیا کی چالا کیوں اور ہوشیاریوں اور فریبوں سے بالکل غافل ہو کر اپنے آرام گاہ میں اطمینان اور آرام سے بیٹھے تھے اور