تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 526
تاریخ احمدیت۔جلد 22 526 سال 1964ء کوئی ایسی تربیت گاہ موجود ہے جہاں سے ڈھل ڈھل کر نئے سپاہی پرانے گزرنے والوں کی جگہ لینے کے لئے آگے جاتے رہیں۔مجلس خدام الاحمدیہ نے نئی نسلوں کی تیاری کے سلسلے میں بعینہ فوجی تربیت گاہوں کا سا کام کیا ہے اور احمدیت کے بقا اور قیام کے سلسلہ میں اس تحریک کی قیمت کا اندازہ کرنا ہر نظر کے بس کی بات نہیں۔اس کے لئے ایک جوہری کی آنکھ کی ضرورت ہے اور ایک ماہر فن کی بصارت درکار ہے۔میں مشاہدہ کی بناء پر نہایت بصیرت سے یہ گواہی دیتا ہوں کہ مصلح موعود کے دوسرے تمام احسانات سے اگر وقتی طور پر آنکھیں بند بھی کر لی جائیں تو صرف مجلس خدام الاحمدیہ کا قیام ہی آپ کو سچا اور برحق مصلح موعود ثابت کرنے کے لئے کافی ہے۔کتنی بگڑی ہوئی زندگیاں اس نظام کے ذریعے سنور گئیں اور سنورتی چلی جارہی ہیں، کتنے ہی اسلام سے دور ہوتے ہوئے قدموں کو اس کی سلاسل نے تھام لیا، کتنے ہی غیر ذمہ دار کندھوں پر ذمہ داری کے بوجھ لادے اور غلامانہ ان کو اسلام کی خدمت کے لئے مسخر کر لیا۔مجھ سے ایک مرتبہ ایک بڑی مجلس کے قائد نے بیان کیا کہ اگر مجلس خدام الاحمدیہ کی تحریک نہ ہوتی تو میں شاید اسلام سے ہی نہیں خدا سے بھی برگشتہ ہو چکا ہوتا۔انہوں نے میرے سامنے جو اپنی زندگی کے حالات بیان کئے ان سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ اپنی کالج کی تعلیم کے زمانہ میں کلیۂ مذہب سے متنفر ہو چکے تھے اور احمدیت سے عملاً لا تعلق ہو گئے تھے لیکن ان کے احتجاجات کے باوجود مجلس خدام الاحمدیہ کے کارندوں نے ان کا پیچھا نہ چھوڑا اور آخر رفتہ رفتہ دین کی محبت کا ایسا شعلہ ان کے سینے میں بھڑ کا دیا اور خدمتِ اسلام کی ایسی کو لگا دی کہ اب خدام الاحمدیہ انہیں چھوڑ بھی دے تو وہ اسے نہیں چھوڑ سکتے۔یہ تو صرف نمونہ کی ایک مثال ہے لیکن فی الحقیقت ایسی مثالیں ایک یا دو یا سینکڑوں ہی نہیں بلکہ ہزار ہا سے بڑھ کر ہوں گی کہ دین سے دور ہٹتے ہوئے نو جوانوں کو مجلس خدام الاحمدیہ کی تنظیم کی برکت سے اپنا رخ موڑ کر دین کی طرف والہانہ قدموں کے ساتھ بڑھنے کی توفیق ملی۔اور اس حقیقت کا تو ہر خادم زندہ گواہ ہے کہ مجلس خدام الاحمدیہ کے طفیل اسے کتنی ہی نیکیوں کے اختیار کرنے کی توفیق ہوئی اور کتنی ہی بدیوں سے بچنے کے بروقت انتباہ پہنچے۔اگر دیانتداری سے ہر خادم اپنے اعمال کا ایک سرسری سا جائزہ بھی لے تو یقیناً یہ حقیقت اس کی نظر سے پوشیدہ نہیں رہے گی (خواہ اس کا واضح احساس اس سے پہلے اسے ہوا ہو یا نہ ہوا ہو ) کہ اس کے بہت سے نیک اعمال، اس کے دینی علم کی پونجی کا ایک معتد بہ حصہ، اس کی قوت عمل، اس کے اخلاق حسنہ، اس کا انکسار، اس کی بدیوں سے نفرت، اس کے خدمت خلق کے جذبات، اس کی اطاعت کی روح،