تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 507 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 507

تاریخ احمدیت۔جلد 22 برادران عزیز السلام علیکم 507 سال 1964ء آج اس پیاری اور مکرم ہستی کو اس دنیائے فانی سے رخصت ہوئے ایک سال سے اوپر ہو گیا۔مگر اب تک ان کی یاد دل میں تازہ ہے۔ہر وقت وہ صورت آنکھوں میں پھرتی ہے۔بعض اوقات تصور ایسی صورت اختیار کرتا ہے گویا وہ کہیں نہیں گئے۔قریب ہی ہیں ابھی ملنا ہو جائے گا۔اس یاد میں آپ سب دلی محبت اور قدر شناسی کے جذبہ کے ساتھ شریک ہیں مگر یہ شرکت جبھی مفید ہوسکتی ہے اگر آپ ایسی ہستیوں کی زندگی اور عمل سے سبق سیکھیں اور اس کو اپنا لیں۔آپ میں سے اکثر ابھی بچے ہی کہلانے کے مستحق سمجھے جاتے ہونگے۔اور اپنے کو خود بھی لڑکپن کی حدود میں سمجھتے ہونگے۔مگر میں بتاؤں آپ کو کہ جن کی یاد میں یہ جلسہ منعقد کیا گیا ہے۔وہ آپ سے کم عمر میں یعنی محض ۱۳ سال کی عمر میں بچپن کی حدوں کو پھلانگ کر سنجیدہ بن چکے تھے۔شادی ہو چکی تھی مگر ایسی شادی نہیں کہ محض ہنسی کھیل اور بچگانہ خوشی کا مظاہرہ ہو۔میری آنکھوں میں وہ نقشہ ہے گویا آج دیکھ رہی ہوں کہ نئی بیا ہی دلہن پلنگ پر بیٹھی ہے اور آپ میز پر برابر کتابوں کا ڈھیر سامنے رکھے پڑھ رہے ہیں۔سر جھکا ہے استغراق کی کیفیت ہے گویا محض اپنے کام سے تعلق ہے۔کام سے فارغ ہو کر باہر پھر نے بھی جاتے اپنی مخصوص طرز سے ہم لوگوں سے ہنسی مذاق کی بات بھی کرتے۔مگر اب بالکل ایک پورے مرد ذمہ دار کے انداز ان کے ہو گئے تھے اور شادی نے کسی فرض سے ان کو غافل نہ کیا تھا۔طبیعت میں احساس ذمہ داری بہت زیادہ تھا۔فرائض کی ادائیگی کا بہت خیال رہتا۔یہی وجہ تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے بعد حضرت بڑے بھائی صاحب یعنی حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے ساتھ ساتھ انہوں نے بھی ہر بوجھ کو اٹھانے کے لئے اپنے کمزور کاندھے آگے کر دیئے۔انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ یہ قابل بھائی بڑا بھائی جب ہر بار کو اٹھانے کے لئے آگے بڑھ آیا خواہ وہ بار پہنی ہوں ، روحانی ہوں یا جسمانی تو چلو ہم ذرا آرام ہی کر لیں۔نہیں انہوں نے بھی اپنا فرض سمجھا اور یہی محسوس کیا کہ یہ گاڑی اب ہم سب نے ہی چلانی ہے۔دل میں ایک طیش ( مراد جوش ) تھی ، تڑپ تھی کہ اب حضرت مسیح موعود کے مشن کی تکمیل اور آپ کے منشاء کو جو منشائے الہی ہے پورا کرنے میں جان لڑا دینا ہم سب کا کام ہے۔چونکہ جائیداد وغیرہ پر بھی نظر ڈالنا دور اندیشی کے لحاظ سے اب ضروری ہو گیا تھا۔حضرت بڑے بھائی صاحب نے اس طرف بھی توجہ دی تو یہ ساتھ مددگار و مشیر