تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 497 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 497

تاریخ احمدیت۔جلد 22 497 سال 1964ء وہ فجر کے وقت اٹھتے ہیں۔اپنا تمام کام صبح ہی ختم کر لیتے ہیں اور رات کو نو بجے سو جاتے ہیں۔اپنے کام کے سوا اور انہیں کسی چیز سے خاص دلچسپی نہیں ہے ، نہ ہی وہ کوئی کھیل کھیلتے ہیں۔البتہ تلاوت کلام پاک سے وہ اپنی روح کو سکون اور قلب کو اطمینان پہنچاتے رہتے ہیں۔اپنے اکثر سائنسی مقالوں میں وہ کلام پاک کے حوالے دیتے رہتے ہیں۔مثلاً مئی ۱۹۵۷ء میں امپیریل کالج میں ابتدائی ذرات کے بارے میں ایک لیکچر دیتے ہوئے انہوں نے قرآن مجید سے اپنے موضوع کے مطابق حال ایک حوالہ دیا۔دیکھو رحمت عالم کی تخلیق کی ہوئی اس دنیا میں تمہیں کوئی ایک چیز بھی نامکمل نظر نہیں آتی۔تم اپنی نظریں چاروں طرف گھماؤ۔کیا تمہیں کوئی خامی نظر آئی۔تم اسی طرح اپنی نگاہیں پھیرتے رہو۔گھماتے رہو اور ہر بار تمہاری نگاہ خیرہ ہو کر تھک کر واپس آجائے گی“ پروفیسر سلام کی خانگی زندگی بڑی پُر مسرت اور بہت بھر پور ہے۔ان کی بیوی پاکستانی ہیں۔جن سے تین لڑکیاں اور چار برس کا ایک لڑکا ہے۔166 روس کی سائنس کا نفرنس میں ڈاکٹر عبدالسلام کو خراج تحسین اگست ۱۹۶۴ء کے دوسرے ہفتہ میں روس کے دارالحکومت ماسکو سے ۷۰ میل دور DABVA کے مقام پر وسیع پیمانہ پر ایک کانفرنس منعقد ہوئی۔جس میں دنیا کے نامور سائنسدان شریک ہوئے۔یہ مقام دنیا میں ایٹمی طاقت کا تیسرا بڑا مرکز شمار ہوتا ہے۔اس کانفرنس میں سیکرٹری کے فرائض پاکستان کے مشہور عالم سائنسدان پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام نے انجام دیئے۔نیز اا راگست کو سہ پہر کے وقت ایک اہم سائنسی موضوع پر خطاب فرمایا جس پر کانفرنس میں شریک نامور سائنسدانوں نے آپ کو زبر دست خراج تحسین ادا کیا۔ایک جرمن سائنسدان نے تو نجی گفتگو میں یہاں تک کہا کہ یہ تقریر اس پایہ کی ہے کہ اس پر ڈاکٹر سلام کو نوبل پرائز مل سکتا ہے۔اخبار الجمعیۃ کا جماعت احمدیہ کی تبلیغی مساعی کا بر ملا اقرار اخبار الجمعی دہلی نے اپنے ۲۳ / اگست ۱۹۶۴ء کے شمارہ میں ” بے عمل لوگوں کا کردار کے زیر عنوان ایک فکر انگیز اداریہ شائع کیا۔اس اداریہ کا ضروری اقتباس ذیل میں ریکارڈ کیا جاتا ہے:۔پاکستان کی قومی اسمبلی میں وزارت ماحولیات کے پارلمنٹری سیکرٹری نے بتایا کہ ۱۹۵۹ء سے