تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 493
تاریخ احمدیت۔جلد 22 493 سال 1964ء ہوئے طوفان زدہ لوگوں کو اناج کپڑے اور دیگر اشیاء تقسیم کی ہیں۔اور ان میں ادویہ تقسیم کرنے کے علاوہ تقریباً چھ صدا فراد کو ٹیکے لگائے ہیں۔خدمت خلق کا یہ کام تا حال جاری ہے اور جماعت کے خدام وانصار بڑی ہمت اور رضا کا رنہ جذبے کے ساتھ خدمات بجالا رہے ہیں۔حکومت کے متعلقہ افسران نے ان کے کام کو سراہا ہے نیز اخبارات نے بھی ان کی ان خدمات کا تذکرہ کیا ہے۔چنانچہ روزنامہ جنگ کراچی نے اپنی ۵ جولائی ۱۹۶۴ء کی اشاعت میں حسب ذیل خبر شائع کی ہے:۔جماعت احمدیہ کی جانب سے بارش زدوں کی امداد حیدر آباد ۳ جولائی (نمائندہ جنگ) جماعت احمدیہ نے دس ڈاکٹروں اور پچاس کارکنوں پر مشتمل ایک طبی وفد حیدر آباد اور تھر پار کر کے بارش زدہ علاقے کے دورہ پر روانہ کیا ہے۔یہ گروپ مختلف 66 جگہوں پر طبی امداد بہم پہنچا رہا ہے“۔اسی طرح انڈس ٹائمن نے بھی اپنی ۸ جولائی کی اشاعت میں رضا کاران انجمن احمدیہ کے زیر عنوان ریلیف کے سلسلہ میں جماعت احمدیہ حیدر آباد کی مساعی جمیلہ کا تذکرہ کیا ہے۔مکرم مولوی غلام احمد صاحب فرخ مربی سلسله مقیم حیدر آباد اور مکرم عبد الغفار صاحب زعیم مجلس انصار اللہ حیدر آباد نے احباب جماعت سے درخواست کی ہے کہ وہ دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر رحم کرے اور ہمارے دوستوں کو بیش از پیش خدمات کی توفیق عطا فرمائے۔آمین دنیا کا عظیم سائنسدان۔پروفیسر عبدالسلام 87 دنیا کے عظیم سائنسدان پروفیسر عبد السلام صاحب کے متعلق اے۔بی۔راجپوت کا مندرجہ ذیل مقالہ روزنامہ مشرق لاہور۲ اگست ۱۹۶۴ء میں شائع ہوا:۔لندن کے مغربی علاقے میں پٹنی نام کے محلہ میں پروفیسر عبدالسلام کا گھر ہے۔ایک دن سہ پہر کو جب چاروں طرف خوب دھوپ پھیلی ہوئی تھی۔میں ان سے ملنے گیا تو وہ ایک ایرانی قالین پر بیٹھے کام کر رہے تھے۔ان کے چاروں طرف کا غذات بکھرے پڑے تھے۔مجھے دیکھتے ہی اٹھ کر کھڑے ہو گئے اور بڑی گرمجوشی سے مجھ سے بغلگیر ہوئے۔انہوں نے بالکل سادہ سے کپڑے پہن رکھے تھے۔جس سے ان کی طبعی سادگی کا احساس ہوتا تھا۔وہ اپنی کا پیاں اور کاغذ وغیرہ ایک طرف