تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 490 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 490

تاریخ احمدیت۔جلد 22 490 سال 1964ء کانفرنس کی رپورٹ تشنہ تکمیل رہے گی اگر میں اس موقعہ پر ان بھائیوں اور بہنوں کا شکر یہ ادانہ کروں جنہوں نے اخلاص کے جذبات کے ساتھ اس موقعہ پر تعاون کیا اور اسلامی اخوت کا ثبوت دیا۔مربیان کرام کا قیام گو متفرق جگہ پر تھا مگر ان کے کھانے کا اہتمام مسجد میں ہی تھا جو میری اہلیہ کے سپر د تھا۔کام خاصہ تھا مگر جماعت کے احباب اور خواتین کے تعاون سے یہ مراحل بفضل تعالیٰ بخوبی انجام پاگئے۔فجزاهم الله احسن الجزاء اس کانفرنس میں مندرجہ ذیل قرار داد میں اتفاق رائے سے پاس کی گئیں :۔۔ہم نمائندگان اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وہ پیشگوئی پورا ہوتے دیکھنے کی توفیق عطا فرمائی جو کہ حضرت المصلح الموعود ایدہ اللہ الودود کی ذات میں پوری ہوئی۔جس کی ایک شق یہ ہے کہ :۔وہ زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا ہمیں اس بات کا فخر ہے کہ اس پیشگوئی کے پورا ہونے میں ہمارا بھی ایک حد تک حصہ ہے۔اس کے ساتھ ہی ہمیں یہ افسوس ہے کہ حضور نے جو بیج بویا تھا اب جبکہ وہ ایک تناور درخت کی صورت اختیار کر چکا ہے اور بے شمار لوگ اس کے سائے تلے جمع ہو رہے ہیں حضورا اپنی بیماری کی وجہ سے صاحب فراش ہیں۔ہم دست بدعا ہیں کہ اللہ تعالیٰ حضور پُر نور کو جلد صحت کاملہ مرحمت فرمادے اور لمبے عرصہ تک خدمت اسلام کی توفیق دے۔آمین اس موقعہ پر ہم اپنے یورپ میں رہنے والے بھائی بہنوں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ بھی حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی صحت، عافیت کیلئے زیادہ سے زیادہ دعائیں کریں۔ہم سب حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس کے ساتھ وابستگی کا اظہار کرتے ہیں۔اور اس بات کا بھی اظہار کرتے ہیں کہ حضور اقدس کے مقرر کردہ صدرانجمن اور تحریک جدید کے عہدیداروں پر ہمیں پورا پورا اعتماد ہے اور ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو صحیح جذبے کے ساتھ خدمت دین کی توفیق بخشے اور ہمیں بھی توفیق دے کہ ہم وقف کی صحیح روح کو برقرار رکھتے ہوئے کام کرتے چلے جائیں اور جلد یورپ میں اسلام کے غلبہ کے دن دیکھ لیں۔۔ہم نمائندگان حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے انا لله و انا الیه راجعون کہتے ہیں۔آپ قمر الانبیاء تھے۔آپ کے وجود کی ٹھنڈی