تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 481 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 481

تاریخ احمدیت۔جلد 22 481 سال 1964ء اس کی بیوی اور بڑی بہن اسے دیکھنے کے لئے گئیں۔لیکن اسے یہ بھی یاد نہ رہا کہ وہ شادی شدہ ہے۔کئی ہفتوں تک وہ اس ہسپتال میں زیر علاج رہا۔پھر معجزانہ طور پر وہ شفایاب ہو گیا۔اس کی ہوشمندی اسی طرح اچانک عود کر آئی جس طرح کہ اچانک مفقود ہو گئی تھی۔اس واقعہ کے بعد میرے والدین محتاط ہو گئے اور میرے مذہب کے بارے میں احتیاط سے بات کرنے لگے ہیں۔مجھے یقین ہے کہ ان کو احساس ہو چکا ہے کہ یہ مصیبت ان پر کیوں برپا ہوئی اگر چہ وہ بظا ہر تسلیم نہیں کرتے۔مجھے یقین ہے کہ میرے بھائی کو بھی یہ احساس ہو چکا ہے کیونکہ اب وہ میرے مذہب کے بارہ میں کچھ نہیں کہتا۔اسے معلوم ہو چکا ہے کہ اس کی ہوشمندی کچھ عرصہ کے لئے ختم ہوگئی تھی۔میں نے اس کے لئے کوئی بددعا نہیں کی تھی۔یہ خدائی نشان تنبیہہ کے طور پر خود بخود ظاہر ہوا۔کیونکہ جب وہ چوزن جانے لگا تو مجھ سے ناراض تھا۔اس واقعہ سے میرا خیال ایک اسرائیلی بادشاہ کی طرف منتقل ہو گیا جو اپنی رعایا کو برا بھلا کہا کرتا تھا۔وہ فاتر العقل ہو گیا تھا۔سات سال تک بیمار رہا۔میرے خیال میں تاریخ میں یہ بھی مذکور ہے کہ اس کی قوت فہم اچانک اسی طرح عود کر آئی تھی جس طرح کہ اچانک مفقود ہو گئی تھی۔اسے اس کا احساس ہوا تو اس کے ازالہ کی کوشش کرنے لگا۔اس طریق سے میرے بھائی کو بھی یقیناً معلوم ہو گیا ہے کہ اسے یہ تکلیف کیوں پہنچی ہے۔جب مجھے اس کی بیماری کی خبر پہلے پہل پہنچی تو معا میرا خیال اس واقعہ کی طرف گیا۔میں اپنے والدین سے کہتی ہوں کہ اگر خدانخواستہ میں مسلمان نہ بھی ہوتی تو اس دین کے خلاف کوئی بات نہ کرتی۔میں نے خدائی عذاب کو اتنا جلدی نازل ہوتے تو کبھی نہیں دیکھا تھا۔چنانچہ اب جب بھی میرے والدین کوئی بات کرتے ہیں تو میں سمجھتی ہوں کہ میرا فرض ہے کہ میں انہیں یاد دلاؤں کہ وہ غیر مؤدبانہ حرکت کر کے کوئی اور مصیبت مول نہ لے لیں۔میں آپ کا شکریہ ادا کرنے سے قاصر ہوں کہ آپ میرے لئے یہ دعا کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ مجھے زیادہ قربانیوں کی توفیق بخشے۔کافی عرصہ سے میں دین کی معمولی سی خدمت بجا لاتی رہی ہوں۔اس پر بھی میں شکر گزار ہوں۔مجھے یقین ہے کہ اس دنیا سے رخصت ہونے سے پہلے اگر خدا کو منظور ہوا تو کچھ اور خدمت بھی بجا لاؤں گی۔اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ جو چیزیں آہستہ آہستہ حرکت کرتی ہیں وہ زیادہ یقینی ہوتی ہیں۔