تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 455 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 455

تاریخ احمدیت۔جلد 22 455 سال 1964ء محمد شفیع صاحب قائد مجلس نے اردو میں سپاسنامہ پیش کیا جس میں آپ کی آمد کو نہایت ہی مبارک اور تاریخی قرار دیا گیا۔اور کہا کہ یہ دن واقعی طور پر ان کے لئے عید کا دن ہے کیونکہ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پوتے اور ہمارے پیارے امام سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے فرزند ارجمند ان کے گاؤں میں تشریف لائے ہیں۔سپاسنامہ میں اس علاقہ میں احمدیت کی بتدریج ترقی کا بھی ذکر کیا گیا تھا اور جماعتی ضروریات کے لحاظ سے پختہ مسجد کی تعمیر کے عزم کا بھی ذکر تھا۔اس کے بعد مولانا ابو العطاء صاحب اور مولانا جلال الدین صاحب شمس نے حاضرین سے خطاب فرمایا اور جماعت کے قیام کے حقیقی مقصد کو واضح کرتے ہوئے بتایا کہ درحقیقت اس زمانہ میں اسلام کے تنزل واد بار کی گھڑیوں میں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت اس غرض کے لئے تھی کہ اسلام کے عالمگیر غلبہ کی بنیا د رکھی جائے۔چنانچہ یہ جماعت اس روحانی جنگ میں مصروف ہے اور قرآنی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق اس کا غلبہ مقدر ہے۔دونوں علماء کرام نے جماعت کو اس مقصد کی پیروی اور کوشش کی طرف متوجہ کیا۔ان تقاریر کا پشتو میں ترجمہ مولانا چراغ الدین صاحب نے کیا۔اس کے بعد (حضرت) صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے مختصر وقت میں سپاسنامہ کے جواب میں فرمایا کہ آپ نے بڑی محبت سے مجھے اور میرے ساتھیوں کو یہاں آنے کی دعوت دی اور آپ کی محبت اور مسرت کو ہم نے نہ صرف زبان اور چہرے کے اتار سے پہچانا بلکہ آپ کے دل کی دھڑکنوں کے جذبات کا بھی احساس ہم نے کیا ہے اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میرے اور میرے ساتھیوں کے دل میں بھی ویسے ہی محبت کے جذبات ہیں اور میں خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں جس نے ہمیں محبت کی اس زنجیر میں منسلک کر دیا ہے۔اس کے بعد آپ نے دنیوی اور روحانی استادوں کے فرق کو واضح کیا اور فرمایا کہ دنیوی استادوں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے بلکہ اکثر حالات میں اسے مستحسن سمجھا جاتا ہے چنانچہ خود امام ابو حنیفہ کے شاگرد امام محمد اور امام یوسف نے کئی مسائل میں ان سے اختلاف کیا ہے لیکن روحانی استاد سے کسی صورت میں اختلاف نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ اپنی عقل و فکر سے بات نہیں کرتے بلکہ خدا تعالیٰ کے الہام سے بات کرتے ہیں۔اس صورت میں اگر ہم ان سے اختلاف کریں تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کی عالم الغیب ہستی سے اختلاف کرتے ہیں۔اس زمانہ میں سیدنا حضرت مسیح موعود