تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 452
تاریخ احمدیت۔جلد 22 452 سال 1964ء 66 آپ نے میٹرک کے امتحان میں نہایت درجہ شاندار نتائج پر محترم ہیڈ ماسٹر صاحب اور ممبران اسٹاف کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے فرمایا: ” سکول کے نتائج بھی میرے لئے خاص طور پر بہت مسرت کا باعث ہوئے ہیں۔امتحان میں شامل ہونے والے طلباء کی اتنی بڑی تعداد کے باوجود نتائج بہت اچھے ہیں۔پھر نہ صرف یہ کہ پر سٹیج اچھی ہے بلکہ کیفیت اور کمیت دونوں لحاظ سے نتیجہ بہت اچھا ہے۔مزید برآں یہ امر اور بھی زیادہ خوشکن ہے کہ بیک وقت تیرہ چودہ طلباء بورڈ کے وظائف حاصل کرتے ہیں ایسے شاندار نتائج دکھانے پر بھی میں ہیڈ ماسٹر صاحب اور دیگر اساتذہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔“ آخر میں آپ نے طلباء کو بیش قیمت نصائح سے نوازتے ہوئے فرمایا کسی نئی مملکت کا معرض وجود میں لانا بہت ہی اہم کارنامہ ہوتا ہے لیکن مملکت کے معرض وجود میں آجانے کے بعد اسے مضبوط و مستحکم بنانا اور شاہراہ ترقی پر گامزن کرنا اور بھی زیادہ مشکل اور کٹھن کام ہے۔اس کے لئے تمام افراد ملک کو مل کر بہت محنت اور قربانی سے کام لینا ہوتا ہے اب جبکہ ہمیں صدر مملکت فیلڈ مارشل محمد ایوب خاں جیسے مدبر کی رہنمائی حاصل ہے۔ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کے دست و بازو بنیں۔یہ جبھی ہوسکتا ہے کہ آپ لوگ بھی جو ابھی بچے ہیں اپنی ذمہ داری کو سمجھیں ، اپنے کردار اور کیریکٹر کو مضبوط بنائیں اور اپنے اندر یکجہتی پیدا کریں۔بچے قوم کی طاقت اور قوت ہوتے ہیں۔کیونکہ ملک کا مستقبل انہی کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے۔پس یاد رکھیں آپ نے آگے چل کر بہت اہم ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونا ہے۔اس کے لئے آپ ابھی سے اپنے کیریکٹر اور کردار کو مضبوط بنائیں اور اپنے اندر انتھک محنت کی عادت پیدا کریں۔جب تک آپ اس عمر میں ہی اپنے کیریکٹر اور کردار کو مضبوط نہیں بنائیں گے اور اپنے اندر محنت کی عادت پیدا نہیں کریں گے اس وقت تک آپ اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونے کے قابل نہیں ہوسکیں گے۔بالآخر آپ نے حکومت کی طرف سے ملنے والی امدادی رقوم کی تفصیل بیان کرنے کے بعد فرمایا انشاء اللہ آئندہ بھی اس ادارہ کی ضروریات کو پورے طور پر ملحوظ رکھا جائے گا اور امداد بہم پہنچانے میں کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا جائے گا۔جب بھی ادارہ کو امداد کی ضرورت ہوگی اسے پورا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔صاحب صدر کے ارشادات کے بعد سکول کے چند طلباء نے خوش الحانی سے قومی ترانہ پڑھا جسے