تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 451 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 451

تاریخ احمدیت۔جلد 22 451 سال 1964ء کے معیار کو بڑھاؤ اور اس حد تک بڑھاؤ کہ ہمارا خدا ہم سے راضی ہو جائے اور ہمیں اپنی جناب میں قبول فرمالے۔آمین خاکسار :۔مرزا ناصر احمد یکم مئی ۱۹۶۴ ء ر بوه جلسہ تقسیم اسناد تعلیم الاسلام ہائی سکول ربوہ 59 مئی ۱۹۶۴ کو تعلیم الاسلام ہائی سکول ربوہ کا سالانہ جلسہ تقسیم اسناد و انعامات بشیر ہال میں منعقد ہوا۔اس خصوصی تقریب میں طلباء و ممبران اسٹاف کے علاوہ نگران بورڈ کے بعض ممبران صدر انجمن احمدیہ اور تحریک جدید کے وکلاء و ناظر صاحبان نیز محکمہ تعلیم کے متعدد ضلعی اور ڈویژنل افسران اور لالیاں، چنیوٹ، چک جھمرہ کے کئی ہائی سکولوں کے ہیڈ ماسٹر صاحبان نے بھی شرکت کی۔(حضرت) صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب صدرصد را انجمن احمدیہ، جناب مرزا عبدالحق صاحب صدر نگران بورڈ اور کمانڈر عبداللطیف صاحب زرعی یونیورسٹی لائکپور بھی تشریف لائے ہوئے تھے۔صدارت کے فرائض جناب خواجہ محمد عبد اللہ صاحب۔ڈبلیو۔پی۔ای۔ایس ڈویژنل انسپکٹر آف سکولز سرگودھا نے ادا فرمائے۔سب سے پہلے میاں محمد ابراہیم صاحب جھونی ہیڈ ماسٹر تعلیم الاسلام ہائی سکول نے سالانہ رپورٹ پڑھ کر سنائی۔بعد ازاں خواجہ محمد عبداللہ صاحب نے تعلیم اور کھیل کے میدان میں امتیاز حاصل کرنے والے طلباء کو انعامات تقسیم کئے بعد ازاں صدارتی خطاب فرمایا۔آپ نے اپنے خطاب کے آغاز میں اس امر پر خوشی کا اظہار کیا کہ تعلیم الاسلام ہائی سکول میں قرآن مجید پڑھانے کا مستقل طور پر خاطر خواہ انتظام موجود ہے۔آپ نے فرمایا: ” مجھے یہ معلوم کر کے بہت خوشی ہوئی ہے کہ آپ کے سکول کے طلباء میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے ساتھ ساتھ قرآن مجید باترجمہ پڑھنا سیکھ لیتے ہیں۔یہ ایسی کامیابی ہے کہ آپ سب اس پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔میں اس خدمت کی انجام دہی پر انجمن کے اراکین اور ہیڈ ماسٹر صاحب اور ان کے سٹاف کا شکر یہ ادا کرتا ہوں اور انہیں مبارکباد دیتا ہوں۔محکمہ تعلیم کی طرف سے تمام سکولوں کو مڈل تک پورا قرآن مجید ناظرہ پڑھانے کی مستقل ہدایت عرصہ سے جاری ہو چکی ہے۔لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اکثر مدارس میں اساتذہ کی کمی یا اس بارہ میں خود اساتذہ کی اپنی کم علمی کے باعث ابھی تک اس ہدایت پر خاطر خواہ عمل نہیں ہوسکا ہے۔ان حالات میں آپ کے سکول کی یہ کامیابی کہ طلباء کو پورا قرآن مجید با ترجمہ پڑھا دیا جاتا ہے بہت خوشکن ہے۔“