تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 413
تاریخ احمدیت۔جلد 22 413 سال 1964ء وابستہ برکتوں اور رحمتوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے اور قدر کرنے کی توفیق ملے اور حضور کی مبارک زندگی میں جلد از جلد اسلام کو غلبہ عطا فرمائے اور دنیا کا ہر خطہ اللہ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نوروں سے جگمگا اٹھے۔بور نیو مکرم سیکرٹری صاحب احمد یہ مشن لا بوان (بورنیو ) نے تار بھیجا:۔حضور پرنور کی قیادت میں حضور کے دور خلافت کے کامیابیوں سے بھر پور پچاس سال میں اسلام کو جو عظیم الشان فتوحات حاصل ہوئی ہیں اور دنیا میں غلبہ اسلام کی راہ ہموار ہوئی ہے وہ ایک کھلی ہوئی کتاب کی طرح ہر کس و ناکس کے سامنے ہے۔ہم حضور کے دور خلافت کے پچاس درخشاں سال پورے ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں اور حضور کی خدمت میں دلی مبارک باد عرض کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ حضور کو صحت و عافیت کے ساتھ عمر دراز عطا فرمائے۔آمین ملائیشیا جماعت احمد یہ سبا ملیشیا کی طرف سے درج ذیل مکتوب موصول ہوا:۔آج حسن و احسان میں نظیر خلافت راشدہ احمدیہ کے پچاس سالہ سنہری دور کی تعمیل پراے منعم ومنان تیرا شکر ادا کرتے ہیں اور تیری حمد کے ترانے گاتے ہیں اوراے موعود امام کے موعود فرزند دلبند گرامی ارجمند اس کامیابی پر تیرے غلام، تجھ سے برکت پانے والی اقوام سبا ملیشیا تجھے مبارکباد عرض کرتے ہیں اور خدائے سمیع و مجیب کے حضور دعا کرتے ہیں کہ اے شافی کامل اس وجود پاک کو جلد شفائے کامل و عاجل سے نواز۔اس کے سایہ کو ہم پر لمبا کر۔اسے فعال زندگی سے نواز اور ہم کمزوروں سے چشم پوشی کا معاملہ کرتے ہوئے نظام خلافت احمدیہ سے وابستہ رکھ اور اسی پر ہمارا انجام بخیر کر۔آمین پاکستان کے طول وعرض سے برقی پیغامات اور خطوط پاکستان کے خوش نصیب احمدی چونکہ حضرت مصلح موعود کے مبارک وجود سے براہ راست برکت حاصل کر رہے تھے اس لئے ان کے دل و دماغ میں اس تاریخی تقریب نے خوشی و انبساط کی غیر معمولی لہر دوڑا دی۔چنانچہ پاکستان کی بہت سی جماعتوں تنظیموں اور احباب نے برقی پیغاموں یا خطوط کی صورت میں عقیدت و مسرت کا اظہار کیا مثلاً :۔