تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 398
تاریخ احمدیت۔جلد 22 رچرڈ بیل نے لکھا:۔398 سال 1964ء یقیناً قرآنی تعلیمات کو جامعیت کے ساتھ پیش کرنے کا انداز جدت کا حامل اور ہر طرح تحسین کے قابل ہے۔اگر انجمن اقوام متحدہ اس کے بیان کردہ اصولوں پر عمل پیرا ہو سکے تو یقینا کسی حد تک وہ اپنا کھویا ہوا وقار دوبارہ حاصل کر سکتی ہے“ اسی طرح ڈچ ترجمہ قرآن مجید کے متعلق ریفارمڈ چرچ کا مشہور ہفتہ وار اخبار "MENKLABE ALBLASCER WAAD" لکھتا ہے:۔اس وقت ہمارے سامنے مسلمانوں کی کتاب مقدس قرآن پڑی ہے جو عربی اور ڈچ میں چھپی ہے۔ترجمہ نہایت ہی سلیس ہے۔جو شخص مسلمانوں کے مذہب یا دیگر مذاہب سے دلچسپی رکھتا ہو اس کے لئے یہ اول نمبر کا ماخذ ہے۔“ "INDE WAAGSCHED" اس کے دیباچہ پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنی ۵ مارچ ۱۹۵۴ء کی اشاعت میں لکھتا ہے:۔اس کے دیباچہ میں جو حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کا لکھا ہوا ہے، قرآن کریم کی عالمگیر حیثیت کو بائیبل اور ویدوں سے بہتر قرار دیا گیا ہے۔اس دیباچہ کے مطابق عہد قدیم کی پیشگوئیاں مسیح سے تعلق نہیں رکھتیں بلکہ ان کا تعلق اسلام کے نبی پاک سے بتلایا جاتا ہے۔جو شخص مسلمانوں کی کتاب سے واقفیت حاصل کرنا چاہے وہ اب ڈچ زبان میں کرسکتا ہے۔“ اس کے علاوہ بیرونی مشنوں اور مرکزی دفتر کی طرف سے زر کثیر کے طرف سے مناسب لٹریچر تیار کیا جاتا رہا ہے اور کیا جا رہا ہے۔اس کی ایک جھلک پیش ہے:۔تراجم کتب حدیث:۔مقامات النساء فی احادیث سید الانبیاء، چالیس جواہر پارے، ریاض احادیث النبی وغیرہ کتب احادیث کے انتخابات کے انگریزی تراجم شائع کئے جاچکے ہیں۔ترجمہ فتاوی احمدیہ: فتاوی احمدیہ کا انتخاب نائیجیریا مشن نے بزبان انگریزی شائع کیا ہے۔