تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 363
تاریخ احمدیت۔جلد 22 363 سال 1963ء حاضرین کی تعداد پانچ ہزار سے زائد تھی۔جن میں بہت سے غیر احمدی معززین بھی تھے اس موقعہ پر مخلصین جماعت نے ۲۶۵۵ پونڈ ز چندہ دیا ملکی پریس نے جلسہ کی خبر نمایاں طور پر شائع کی۔اس مرکزی کانفرنس کے علاوہ اشانٹی ریجن کی سالانہ کانفرنس ۲۱ تا ۲۵ نومبر کو آکر قرم میں ہوئی جس میں علاقے کے چیف اور دیگر ا کا بر شامل ہوئے اور سوا دو سو پونڈ ز چندہ ہوا۔اس کانفرنس کی کامیابی میں مولانا عبد المالک خان صاحب کی جدو جہد کا بھاری عمل دخل تھا۔مولانا عطاء اللہ کلیم صاحب کی زیر نگرانی دو مقامات پر نئے سکول جاری کئے گئے۔آپ نے احمد یہ سیکنڈری سکول کماسی میں لیکچر دیا۔فرنچ سفارت خانہ کے ایک سیکرٹری کو جماعتی لٹریچر بھی دیا نیز بعض جماعتوں کے دورہ پر بھی تشریف لے گئے۔مولانا عبد المالک خان صاحب نے اڑھائی ہزار میل کا سفر کیا اور آکرہ ، سالٹ پانڈ ، کیپ کوسٹ ، دوی ، ابرو، کو تو گو، انکوکو، اموکوری، ممیانگ، ابواسی، ٹیچیمان اور پرامو کی جماعتوں کا دورہ کیا۔آپ کی کوشش سے شانٹی کے ماحول میں دونئی جماعتوں کا قیام عمل میں آیا۔آپ کے زیرانتظام ہر اتوار کو کماسی مارکیٹ کے قریب پبلک جلسے منعقد ہوتے رہے۔آپ کا ایک پادری سے کامیاب مباحثہ ہوا۔مولوی عبدالحمید صاحب مبلغ اکرہ نے مولانا عبدالمالک خان صاحب کی معیت میں غانا کے وزیر خارجہ کو دینی لٹریچر پیش کیا۔آپ غانا کی سب سے بڑی بندرگاہ ٹیما (Tema) بھی تشریف لے گئے۔جہاں متعد دا حباب نے جو آپ کے زیر تبلیغ تھے بیعت کر لی اور ایک نئی جماعت معرض وجود میں آئی۔آپ نے فرانسیسی سفارت خانہ کے ایک سیکرٹری کو دینی لٹریچر پیش کیا۔اکرہ کی تھیوسوفیکل سوسائٹی میں لیکچر دیا اور محکمہ براڈ کاسٹنگ کے بعض افسران اور ایک پادری صاحب سے اسلامی تعلیم پر تبادلہ خیالات کیا۔مولوی عبدالوہاب بن آدم عیسائیوں، بت پرستوں اور غیر از جماعت مسلمانوں تک پیغام حق پہنچانے میں مصروف عمل رہے۔ٹومالی ریجن کے اساتذہ کے سامنے لیکچرز دیئے۔غانا کالج، گورنمنٹ سیکنڈری سکول اور ٹریننگ کالج میں اسلام کے متعلق متعدد تقاریر کیں اور سوالوں کے جواب دیئے۔تیجانی فرقہ کے معلم الحاج ثانی اول کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عربی کتب دیں۔ایک تیجانی عالم کے ساتھ آپ کا مباحثہ بھی ہوا جو تین دن تک جاری رہا۔