تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 348
تاریخ احمدیت۔جلد 22 348 سال 1963ء 44 دوم۔انگلستان کے احمدی احباب کی اکثریت چونکہ پاکستانی دوستوں پر مشتمل ہے اس لئے اس بات کی ضرورت محسوس ہوئی کہ اردو میں ایک پندرہ روزہ اخبار احمد یہ جاری کیا جائے۔اس تجویز کے محرک در اصل حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تھے اور آپ کے ارشاد کی تعمیل میں جناب بشیر احمد صاحب رفیق نے یہ اُردو اخبار سائیکلو سٹائل پر چھاپنا شروع کیا۔یہ رسالہ (مراد اخبار احمدیہ ) اب تک جاری ہے اور اس کی افادیت میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔مشن کی طرف سے یوم مصلح موعود اور یوم مسیح موعود کی تقریب پر مسجد فضل لندن میں جلسے ہوئے۔علاوہ ازیں ساؤتھ ہال میں ہر ماہ اجتماعات منعقد ہوتے رہے۔مکرم بشیر احمد خان صاحب رفیق اور عبدالعزیز دین صاحب روٹری کلب اور دوسری سوسائیٹیوں کے زیر اہتمام پیغام حق پہنچانے میں سرگرم عمل رہے۔چوہدری رحمت خاں صاحب امام مسجد فضل لندن ویکفیلڈ جیل میں بغرض تبلیغ تشریف لے گئے اور جیل کے ڈپٹی گورنر اور میجر جنرل کولٹر پچر دیا۔برما اس سال جماعت احمدیہ برما نے رسالہ ” جمعیت العلماء برما اور ہم “ اور فتویٰ مصریہ کا برمی ترجمہ شائع کیا۔دونوں رسائل بہت مقبول ہوئے۔ماہ جولائی میں ایک جماعتی وفد نے برما میں مقیم سفیر ہند سے ملاقات کی اور دینی لٹریچر پیش کیا جسے انہوں نے شکریہ کے ساتھ قبول کیا۔جماعت احمد یہ برما کا جلسہ سالانه ۲۹ دسمبر ۱۹۶۳ء کو منعقد ہوا جس میں احمدیوں کے علاوہ دیگر مسلمان، بدھسٹ ، ہندو اور عیسائی بکثرت شامل ہوئے۔خواجہ بشیر احمد صاحب امیر جماعت محمود موسکوصاحب، ورسا اسماعیل صاحب اور عبد القادر صاحب نے تقاریر کیں۔اس موقعہ پر مہمانوں کی خدمت میں لٹریچر بھی پیش کیا گیا۔احمدی خواتین کا الگ اجلاس ہوا۔بور نیو(شمالی) مشن کے نئے مبلغ بشارت احمد نسیم امروہی کے اعزاز میں جماعت نے جسلٹن ہوٹل میں ایک استقبالیہ دیا جس میں انڈونیشیا کے قونصل اور وائس قونصل بھی مدعو تھے۔جنہیں قرآن کریم انگریزی تحفہ دیا گیا۔قونصل نے جماعت احمدیہ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا انڈونیشیا میں بھی کافی عرصہ سے جماعت احمدیہ کے مبلغین کام کر رہے ہیں۔اور نہایت اچھے رنگ میں اسلام کی خدمت و تبلیغ کا