تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 296 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 296

تاریخ احمدیت۔جلد 22 296 سال 1963ء مولوی محمد علی صاحب جو خطبہ جمعہ و نماز پڑھائیں گے ان کے پیچھے آپ نماز پڑھ سکتے ہیں۔آپ کو خطبہ پڑھنے یا نماز پڑھانے کی اجازت نہ ہوگی اگر آپ کے اصرار کی صورت میں اور کوئی فساد ہوا تو اس کی ذمہ داری آپ پر ہوگی۔میں نے ڈاکٹر صاحب کے رقعہ کے جواب میں لکھا کہ سید نا حضرت خلیفہ مسیح الاول نے مجھے جماعت لا ہور کا امام اور خطیب مقر فرمایا ہوا ہے اور مولوی محمد علی صاحب کو جو خلافت کے منکر اور باغی ہیں میرے مقابل پر کون امام مقرر کرنے والا ہے ؟ میں چونکہ حضرت خلیفتہ اسیح کا مقرر کردہ ہوں، اس لئے مجھے روکنے کا آپ کو اختیار نہیں۔اس جواب کے بھجوانے کے بعد میں مبائع احباب کے ساتھ خود احمد یہ بلڈنکس چلا گیا۔جب ہم وہاں پہنچے تو ڈاکٹر محمد حسین شاہ صاحب نے اپنی درشت کلامی اور وحشت کا بہت برا نمونہ دکھایا اور کہا کہ یہاں کوئی مسجد نہیں۔یہ مکان جہاں نماز پڑھی جاتی ہے میری ہمشیرہ کا تعمیر کردہ ہے اور ہماری اپنی جائیداد ہے یہاں پر کسی غیر کا دخل نہیں۔اور ہم اپنے مکان پر کسی کو نماز نہیں پڑھنے دیں گے۔جب ڈاکٹر صاحب نے مسجد کے مسجد ہونے سے ہی انکار کر دیا اور اس کو اپنا ذاتی ملکیتی مکان قرار دیا تو مبائع احباب نے بعد مشورہ یہی مناسب سمجھا کہ وہ احباب جو دامن خلافت سے وابستہ ہیں مبارک منزل احاطہ میاں حضرت چراغ دین صاحب میں نماز جمعہ ادا کریں۔چنانچہ اس دن سے مبائعین نے اپنی نماز مبارک منزل میں پڑھنی شروع کر دی اور اہل پیغام کی وہ مسجد جس کو انہوں نے ذاتی مکان قرار دیا تھا ایسی منحوس ثابت ہوئی کہ خلافت ثانیہ کے باغیوں، سلسلہ کے مرتدوں اور منافقوں کی پناہ گاہ بنی۔۷ جون ۱۹۱۵ء کو بعد از نماز عصر مسجد اقصیٰ میں حضرت سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کے نکاح کی مقدس تقریب تھی۔حضرت مصلح موعود نے فیصلہ فرمایا کہ اعلان نکاح مولوی غلام رسول صاحب را جیکی کریں گے اور حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی کو لاہور بھیجا کہ اپنے ساتھ قادیان لے آئیں۔چنانچہ آپ قادیان پہنچے اور حضرت مصلح موعود، حضرت نواب محمد علی خان صاحب اور دوسرے بزرگان سلسلہ کی موجودگی میں آپ نے خطبہ نکاح پڑھا جو الفضل مورخہ ۱۷ جون ۱۹۱۵ء میں شائع ہوا۔۲ را پریل ۱۹۱۹ء کوسیدنا حضرت مصلح موعود کا یہ ارشاد آپ کو لاہور میں ملا کہ مالا بار جانے کے لئے تیار ہو کر قادیان آجائیں۔چنانچہ آپ قادیان حاضر ہو گئے۔دوسرے دن حضور نے ضروری