تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 285 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 285

تاریخ احمدیت۔جلد 22 285 سال 1963ء مناظرہ میں کئی ہزار تک حاضری کی تعداد تھی۔اور پانچ صدر تھے۔دو احمدی دو غیر احمدی اور پانچواں ہندو۔جو ایک بہت بڑار یکیں اور معزز ہندو تھا۔غیر احمدی علماء جیسے مولوی مرتضی در بھنگی و غیرہ بار بارشور مچاتے اور کہتے کہ یہ پرچہ پڑھنے سے لوگوں پر اپنا اثر ڈالتا ہے۔اس طرح سے ہم پر چہ نہیں پڑھنے دیں گے۔یہ پرچہ پڑھے تو فرفر پڑھے اور جلد جلد ختم کرنے کی کوشش کرے۔جس پر سب سے بڑے صدر صاحب جو ہندو تھے۔انہوں نے ان مجسم بد تہذیب علماء کو اپنی ناشائستہ حرکات سے روکا۔لیکن وہ بار بار اٹھتے اور شور مچاتے۔آخر صدر صاحب نے فرمایا کہ تمہیں اس پر چہ کے سننے کی نہ تاب سماعت ہے نہ ہی قوت برداشت۔آخر علماء بجز نما شکست اور ذلت آلود ہزیمت کے ساتھ اس میدان مناظرہ سے اس مصرعہ کی مجسم تصویر ہو کر باہر نکلے کہ ع بہت بے آبرو ہو کر تیرے کوچہ سے ہم نکلے ! میں اپنے علماء سلسلہ کی طرح کتابوں کے ٹرنک ساتھ رکھنے کی عادت نہیں رکھتا صرف ایک قرآن ساتھ رکھتا ہوں۔اور زیادہ تر دعاؤں سے کام لیتا ہوں۔اگر دعا کی مجھے توفیق مل جائے تو میں سمجھ لیتا ہوں کہ میں کامیاب ہو جاؤں گا۔دعا کی توفیق نہ مل سکے تو سمجھ لیتا ہوں کہ کوئی ابتلاء مقدر ہے۔پھر استغفار پر زور دیتا ہوں۔پھر علاوہ تبلیغ کے علمی مباحثات و دینی مناظرات کے لئے ہزاروں دفعہ مجھے موقعہ ملا۔اور بعض دفعہ ان مناظرات کی وجہ سے کثرت سے لوگوں نے احمدیت کو قبول کیا۔ا یکدفعہ مولوی ابراہیم سیالکوٹی سے موضع مانگٹ اونچے میں جو علاقہ حافظ آباد میں ہے میرا دودن مناظرہ ہوا۔جس پر پچاس آدمیوں نے بیعت کی جن کے نام اخبار بدر میں شائع ہوئے۔اسی طرح چک لوہٹ ضلع لدھیانہ میں بحث ہوئی جس پر ۸۰ سے بھی کچھ اوپر لوگوں نے بیعت کی۔اسی طرح ایک دفعہ دہلی سے علماء غیر احمدی جو ماچھی واڑ ضلع لدھیانہ میں مناظرہ کیلئے بلائے گئے۔ان سے میرا مناظرہ ہوا اور ٫۳۵افراد نے بیعت کی۔اسی طرح کئی مواقع پر لوگوں نے حق کو قبول کیا اور غیر احمدی علماء کو میں نے نہ کہ ظاہری علوم کی قوت سے بلکہ روحانی علوم کی طاقت سے پچھاڑا۔اور آنحضرت کے لشکر کی حیثیت سے حضرت مسیح موعود کے روحانی علوم اور آپ کے عطا کردہ دلائل قاطعہ کی باطل کش برچھیوں سے باطل کو مجروح کیا۔ایک دفعہ مولوی ثناء اللہ امرتسری نے جہلم میں ایک مجمع عظیم میں مجھے اکتسابی علوم سے بے بہرہ ہونے پر طعن کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے علم کا حال ہمیں معلوم ہے آپ نے پڑھا ہی کیا ہے۔صرف پرائمری تک آپ کی تعلیم ہے آپ مرزا صاحب کے رنگروٹ ہیں۔اور میں مولوی فاضل