تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 11 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 11

تاریخ احمدیت۔جلد 22 11 سال 1963ء انعقاداب آپ کی اس کوشش پر موقوف ہے کہ آپ کم از کم چالیس مقتدر اور جید علماء اہل السنت کو جو ہر مکتب خیال پر مشتمل ہوں مباہلہ میں شامل ہونے کے لئے آمادہ کر سکیں۔جو نہی آپ ایسے چالیس علماء کو مباہلہ میں شامل کرنے کے لئے تیار کر کے ان کی طرف سے اعلان شائع کرا دیں گے جماعت احمدیہ کی طرف سے آپ کی خواہش کو پورا کرنے میں کوئی دیر نہ ہوگی۔11 اس سے ظاہر ہے کہ جماعت احمدیہ نے مولوی منظور احمد کی دعوت مباہلہ کو نا منظور نہیں کیا۔چونکہ وہ اپنے تئیں اہل السنت کا واحد منتخب نمائندہ ثابت نہیں کر سکے تھے اس لئے انہیں یہ رعایت دی گئی کہ وہ کم از کم چالیس مقتدر علمائے اہل السنت کو جو ہر مکتب خیال کے ہوں مباہلہ میں شامل کرائیں تا مباہلہ کا اثر وسیع ہو اور وہ پورے طور پر حجت ہو سکے۔یہ ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ یہ شرط جماعتی سطح پر مباہلہ کے لئے لگائی گئی تھی۔جہاں تک انفرادی مباہلہ کا تعلق ہے پریذیڈنٹ صاحب جماعت احمدیہ چنیوٹ ، مولوی منظور احمد کی دعوت مباہلہ منظور کر چکے ہوئے ہیں۔نیز جماعت احمدیہ کے ایک فاضل مکرم مولوی عزیز الرحمن صاحب آف منگلا بھی مع جماعت احمد یہ منگلا ان سے مباہلہ پر آمادگی کا تحریری اعلان فرما چکے ہوئے ہیں۔مگر مولوی منظور احمد صاحب ان ہر دو سے مباہلہ کے لئے آمادہ نہیں ہوئے اور یکا یک تصفیہ شرائط کے بغیر ہی از خود تاریخ مقرر کر کے دریائے چناب پر مباہلہ کے اجتماع کا اعلان کر دیا۔انفرادی مباہلہ سے فرار اور جماعتی سطح پر مباہلہ کے لئے شرائط کا تصفیہ کرنے اور تمام اہل السنت مکاتیب خیال کی نمائندگی ثابت کرنے سے عمد اگریز کا صاف مطلب یہ تھا کہ ان کا مقصد مباہلہ کرنا نہیں بلکہ محض ہنگامہ آرائی اور فساد برپا کرنا ہے۔اس سے قبل بھی وہ جماعت احمدیہ کے خلاف مسلسل انتہائی دلآ زار گندے اور اشتعال انگیز پمفلٹ اور کتابچے شائع کر کے اپنی فساد انگیزی کا حتمی ثبوت فراہم کر چکے ہیں اور خود چنیوٹ میں اکا دکا احمدیوں پر آوازے کسنے اور نا جائز چھیڑ چھاڑ کے واقعات سے اس کی مزید تصدیق ہو چکی ہے۔ورنہ جماعت احمدیہ کو معقول شرائط کے تصفیہ کے ساتھ مباہلہ سے ہرگز انکار نہیں اور نہ پہلے کبھی اُس نے انکار کیا ہے۔خودحضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ الصلوۃ والسلام اپنی کتاب ”انجام آتھم میں علماء اور گدی نشینوں کو نام به نام مباہلہ کی دعوت دے چکے ہوئے ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی مباہلہ پر آمادہ نہیں ہوا۔دراصل مولوی منظور احمد کو اپنی طرف سے نیا چیلنج دینے کی ضرورت نہیں تھی بلکہ انہیں اس چیلنج کو منظور کرنا چاہئے تھا اور اس کی صورت یہی ہوسکتی تھی کہ وہ پاکستان کے بڑے بڑے علماء میں سے کم از کم چالیس علماء مباہلہ میں اپنے ساتھ شامل