تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 251
تاریخ احمدیت۔جلد 22 251 سال 1963ء 6 کے اس آخری دورے میں زیر تبلیغ والوں کے روحانی استحکام کا جائزہ لیتے۔ان کے ذہنوں کے اشکال و شبہات کھنگالتے ، انہیں دُور کرتے۔جلسہ سالانہ کی برکات ذہن نشین کراتے اسلام کی اجتماعی شان و شوکت کا نظارہ کھینچتے اور یوں پھرتے پھراتے جب ہفتوں کی مسافت کے بعد دارالامان پہنچتے تو اُن کے ساتھ ہر سال پندرہ بیس تازہ واردان کا قافلہ ہوتا جن میں سے اگر آٹھ دس بیعت کر جاتے تو باقی آئندہ سالوں کے لئے پوری طرح تیار ہو جاتے اور ان کے دل احمدیت کے متعلق خوش ظنیوں سے بھر جاتے اور یوں ہر سال چراغ سے چراغ جلتا چلا جاتا۔حضرت حکیم صاحب کی اسی تڑپ لگن بلکہ جنون کا انعام اور حاصل تھا کہ آپ کی کوشش سے ضلع فیروز پور میں قریباً گیارہ مخلص جماعتیں قائم ہو گئیں۔اور زیرہ، فیروز پور اور قصور کے درجنوں دیہات میں آپ کے ہاتھوں احمدیت کا بیج بویا گیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کے مطابق اللہ تعالیٰ نے زیرہ شہر میں ساتھ گھرانوں پر مشتمل ایک مضبوط، مخلص ، فعال اور با اثر جماعت عطا فرمائی جس کی اپنی خوبصورت مسجد اور عید گاہ تھی اور قصبے کی میونسپلٹی کے تین مسلمان ممبروں میں سے دو ممبراکثر و بیشتر اسی جماعت میں سے ہوتے تھے۔الغرض حضرت حکیم صاحب احمدیت کے بچے فدائی بہت دعا گو اور تبلیغ سے شغف رکھنے والے بزرگ احمدیت اور احمدیت کی چلتی پھرتی تصویر تھے۔69 70 اولاد (۱) مکرم محمد اقبال صاحب مرحوم ( وفات ۴ دسمبر ۱۹۳۳ء) (۲) جناب محمد صدیق صاحب ( ثاقب زیروی) مدیر لاہور (۳) مکرم محمد بشیر صاحب (انسپکٹر کو آپریٹو سوسائٹیز ) (۴) محترمہ حفیظہ بیگم صاحبہ (اہلیہ چوہدری نیاز الدین احمد سلہری ) حضرت میاں اللہ دتہ صاحب تر گڑی ضلع گوجرانوالہ ولادت ۱۸۷۹ء بیعت : ۱۹۰۳ء وفات : ۱/۵اپریل ۱۹۶۳ء آپ کا بیان ہے کہ ”جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مع حضرت شہزادہ عبداللطیف صاحب شہید مقدمہ کرم الدین کے لئے جہلم تشریف لے جا رہے تھے اس موقعہ پر ریلوے اسٹیشن گوجرانوالہ پر گاڑی کے کمرہ میں شرف زیارت حاصل کیا اور بعد ازاں خط کے ذریعہ اسی سال میں 66 نے بیعت کر لی۔“