تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 184 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 184

تاریخ احمدیت۔جلد 22 184 سال 1963ء کو بھیجا اور کسر صلیب کا کام آپ کے سپر دفرمایا۔پس اس زمانہ میں سب سے بڑی نیکی خدائے واحد کے نام کی بلندی اور کفر و شرک کی بیخ کنی کرنا ہے۔جس کے لئے جماعت کو مالی اور جانی ہر قسم کی قربانیوں سے کام لینے کی ضرورت ہے۔میں نے اس امر کو دیکھتے ہوئے ابھی تھوڑے ہی دن ہوئے دوستوں سے کہا تھا کہ پاکستان میں عیسائیت کا مقابلہ کرنے کے لئے ہر شخص کو سال بھر میں کم از کم ایک ہفتہ وقف کرنا چاہیے۔مجھے معلوم نہیں کہ جماعت نے عملی رنگ میں اس کا کیا جواب دیا اور صدر انجمن احمدیہ نے اس کی نگرانی کے لئے کیا کوشش کی لیکن اگر ابھی تک ہماری جماعت نے اس کی طرف پوری توجہ نہ کی ہو تو میں ایک دفعہ پھر آپ لوگوں کو اس فرض کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔عیسائیت کا فتنہ کوئی معمولی فتنہ نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ آدم سے لے کر اب تک کوئی نبی دنیا میں ایسا نہیں آیا جس نے اپنی امت کو دجال کے فتنہ سے نہ ڈرایا ہو۔میں نہیں سمجھ سکتا کہ اتنے بڑے فتنہ کے ہوتے ہوئے ہماری جماعت کس طرح آرام کی نیند سو سکتی ہے اور کس طرح چھوٹی چھوٹی باتوں میں وہ اپنے قیمتی وقت کو ضائع کر سکتی ہے۔جب کسی کے گھر میں آگ لگ جاتی ہے تو لوگ بیٹھ کر کہیں ہانکنے نہیں لگ جاتے بلکہ پاگلا نہ طور پر ادھر ادھر دوڑنے اور آگ پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہیں۔اگر یہی احساس ہماری جماعت کے اندر بھی موجود ہو تو کفر و شرک کی آگ جو اس وقت دنیا کو جلا کر خاکستر کر رہی ہے۔اُس کو بجھانے کے لئے آپ لوگوں کے اندر کیوں بے تابی پیدا نہ ہو۔پس میں آپ لوگوں سے کہتا ہوں کہ وقت کی نزاکت کو سمجھو اور اس جہاد کی طرف آؤ جس سے بڑا جہاد اس زمانہ میں اور کوئی نہیں آج ایک بہت بڑی روحانی جنگ دُنیا میں لڑی جا رہی ہے اور اسلام کے مقابلہ میں ایک بڑا بھاری فتنہ سر اٹھائے ہوئے ہے۔ہماری تو راتوں کی نیند بھی اس فکر میں اڑ جانی چاہئیے اور ہمیں اپنے تمام پروگرام اس نقطہ کے اردگر دمرکوز کرنے چاہئیں۔بے شک تزکیۂ نفس بھی ایک بڑی ضروری چیز ہے اور دعاؤں اور ذکر الہی سے کام لینا بھی ہر مومن کا فرض ہے مگر تبلیغ اسلام ایک نہایت وسیع اور عالمگیر نیکی ہے۔جس میں حصہ لینے والا تزکیہ نفس اور دعاؤں اور ذکر الہی کی دولت سے بھی