تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 161 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 161

تاریخ احمدیت۔جلد 22 161 رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا ہی خوب فرمایا ہے:۔سال 1963ء فَأُنْزِلَ مِنْ رَّبِّ السَّمَاءِ سَكِيْنَةٌ عَلَى صُحْبَتِي وَ اللَّهُ قَدْ كَانَ يَنْصُرُ یعنی جب میری جماعت ہر دنیوی سہارا سے مایوس اور ہر طرف سے ناامید ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس جماعت پر سکون اور طمانیت نازل فرماتا ہے۔اور اپنی مدد ونصرت سے انہیں نوازتا ہے۔۔۔۔الفرض اس نے تعمیر شدہ مکان کا افتتاح اور مکرم محی الدین صاحب کی ایک سوتیلی لڑکی کی شادی کی مشتر کہ تقریب ۲۹ ستمبر ۱۹۶۳ء کو عمل میں آئی۔اس تقریب کو کامیاب بنانے کے لئے کالیکٹ ، کنانور کو ڈالی اور بینگا ڈی سے کافی تعداد میں احمدی حضرات آئے ہوئے تھے۔محترم مولوی بی عبد اللہ صاحب فاضل مبلغ انچارج کیرالہ اور مکرم مولوی محمد ابوالوفاء صاحب مبلغ کالیکٹ بھی مدعو تھے۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ غیر احمدیوں نے ہمارا بالکل بائیکاٹ کر دیا تھا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے غیر مسلموں کے قلوب کو ہمارے لئے مسخر کر دیا اور ہندوؤں نے ہر رنگ میں ہمارے ساتھ تعاون کیا 208- اور ہر قسم کی مدددی۔مرکزی نمائندہ مشرقی افریقہ میں دوسرے ممالک کی طرح مشرقی افریقہ میں بھی مجاہدین تحریک جدید کی تبلیغی سرگرمیاں تیزی سے بڑھ رہی تھیں اور وقت کا تقاضا تھا کہ کوئی مرکزی نمائندہ ان مشنوں کا جائزہ لے اور جماعتوں اور مبلغوں کے مشورہ سے ان کی ترقی اور وسعت کے لئے ضروری تجاویز بروئے کار لائی جائیں۔اس ضرورت کے پیش نظر تحریک جدید کی طرف سے محترم حافظ عبدالسلام صاحب وکیل المال اوّل کو مرکزی نمائندہ کی حیثیت سے بھجوایا گیا۔آپ ۱۴ ستمبر ۱۹۶۳ء کو ربوہ سے مشرقی افریقہ تشریف لے گئے۔۷ ستمبر کو بذریعہ ہوائی جہاز نیروبی پہنچے اور کینیا اور یوگنڈا کے دورے کے بعد ۵ /اکتوبر کو دار السلام کے ہوائی اڈے پر اترے جہاں مشنریز کا نفرنس اور فنانس کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی اور مشن ہاؤس کا دورہ کر کے 9 اکتوبر کو واپس روانہ ہو گئے۔200 مغربی پاکستان کی وزیرتعلیم ربوہ میں ۲۰ ستمبر ۱۹۶۳ء کو جامعہ نصرت ربوہ کا پہلا شاندار جلسہ تقسیم اسناد منعقد ہوا۔اس میں وزیر تعلیم مغربی پاکستان محترمہ بیگم محمودہ سلیم صاحبہ نے شرکت کی اور جامعہ نصرت کے شاندار نتائج پر اظہار