تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 122
تاریخ احمدیت۔جلد 22 122 سال 1963ء کم بولتے اور کم ہی بے تکلف ہو کر سامنے آتے تھے۔ویسے طبیعت میں لطیف مزاح بچپن سے اب تک تھا۔ایسی بات کرتے چپکے سے کہ سب ہنس پڑتے اور خود وہی سادہ سا منہ بنائے ہوتے۔حضرت اماں جان فرماتی تھیں کہ اول تو بچوں کو کبھی میں نے مارانہیں ویسے ہی کسی شوخی پر اگر دھمکایا بھی تو میر ابشری ایسی بات کرتا کہ مجھے ہنسی آ جاتی اور غصہ دکھانے کی نوبت بھی نہ آنے پاتی۔ایک دفعہ شائد کپڑے بھگو لینے پر ہاتھ اٹھا کر دھمکی دی تو بہت گھبرا کر کہنے لگے۔نہ اماں کہیں چوڑیاں نہ ٹوٹ جائیں۔اور حضرت اماں جان نے مسکرا کر ہاتھ نیچے کر لیا۔حضرت والدہ صاحبہ سے تعلق حضرت اماں جان سے محبت بھی بے حد کرتے تھے اور ادب و احترام بھی عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ بڑھتا گیا اور روز آکر بیٹھنے کے علاوہ مسجد میں جاتے آتے وقت بھی ضرور خیریت پوچھ کر اور باتیں کر کے جاتے۔اپنے دل کا ہر درد کھ حضرت اماں جان سے بیان کرتے اور حضرت اماں جان کی دعا پیار ومحبت کی تسلی سے تسکین پاتے حضرت اماں جان کی ملازموں تک کو ادب سے پکارتے اور ان کا ہر طرح خیال رکھتے تھے۔جب کسی بڑھیا پرانی بے تکلف خادمہ سے مذاق بھی کرتے تو بڑے ہی انکسار سے کہ سب ہنس دیتے اور وہ نادم سی ہو جاتی۔ابتداء سے ہی جب آمدنی کم اور گزارا اپنا بھی مشکل تھا ضرور ہر ماہ چپکے سے کچھ رقم حضرت اماں جان کے ہاتھ میں ادب اور خاموشی سے دے دیتے۔آپ کو کوئی حاجت نہ تھی مگر ان کی دلداری کے خیال سے واپس نہ کرتی تھیں۔ہر وقت اماں جان کے آرام کا خیال رہتا اور خدمت کی تڑپ۔اس معاملہ میں وہ بالکل بڑے بھائی کے نقش قدم پر چلے اور ان سے کم نہ رہے۔آپ کی آخری بیماری میں پروانہ وار پھرتے تھے۔کسی وقت ان کے دل کو چین نہ تھا۔برآمدے میں ہی ٹہلتے پھرتے اور وہیں رہتے۔کئی بار آ کر دیکھتے ہاتھ پکڑتے۔السلام علیکم کہتے اور چلے جاتے۔ہر وقت بعض پردہ دار خدمت کرنے والوں کی وجہ سے کمرہ میں رہ نہ سکتے تھے ور نہ وہ تو پٹی نہ چھوڑتے۔شادی ہوئی تو آج کل کی پود کو دیکھتے ہوئے بچہ ہی تھے مگر بہت سنجیدگی اور وقار سے وہ پہلے پہل کے دن بھی گزارے۔کوئی نا پختگی یا بچپن کی علامت لڑائی جھگڑا کسی قسم کی کوئی بات میں نے نہیں دیکھی حالانکہ ہر وقت کا ساتھ تھا۔صرف عزیزہ امتہ السلام کی پیدائش پر شرمائے۔ان کو نہ کبھی گود میں لیا نہ بات کی، جب وہ بیاہی گئیں تو شرم ٹوٹی اور بولنے چالنے لگے۔عزیزہ امتہ السلام کا بچپن تو حضرت