تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 103 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 103

تاریخ احمدیت۔جلد 22 103 سال 1963ء آخری زیارت کا شرف کوئٹہ کراچی اور بعض دوسرے شہروں سے تو لوگ ہوائی جہازوں کے ذریعہ لاہور یا لائل پور ہوتے ہوئے ربوہ پہنچے۔مکرم مولا نا عبد الرحمن صاحب فاضل ، مکرم مولوی برکات احمد صاحب را جیکی اور مکرم قریشی عطاء الرحمن صاحب اور بعض دیگر در ویش قادیان سے تشریف لائے نیز ایک خاص تعداد میں مستورات بھی بیر ونجات سے ربوہ آئیں جنہیں لجنہ اماءاللہ کے ہال میں ٹھہرانے کا انتظام کیا گیا۔احباب کی اس قدر کثیر تعداد کے پیش نظر فیصلہ کیا گیا تھا کہ احباب کو حضرت میاں صاحب کے چہرہ مبارک کی زیارت کا موقع دینے کا انتظام اولین فرصت میں کیا جائے تا کہ سب احباب زیارت کا شرف حاصل کر سکیں چنانچہ مستورات کے لئے صبح دس بجے سے ۱۲ بجے تک اور مردوں کے لئے اڑھائی بجے سے ساڑھے چار بجے تک کا وقت مقرر کیا گیا لیکن یہ وقت ناکافی ثابت ہوا۔مستورات نے ایک خاص نظام کے ماتحت دس بجے صبح سے ڈیڑھ بجے دوپہر تک زیارت کا شرف حاصل کیا پھر بھی بہت سی مستورات کو وقت کی قلت کے باعث اس شرف سے محروم رہنا پڑا۔نماز ظہر کے بعد دو بجے سے مردوں کو زیارت کا موقع دیا گیا سب سے پہلے صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ناظر و وکلاء صاحبان، امرائے اضلاع ربوہ کے صدران محلہ جات مجلس انصار اللہ مرکز یہ اور مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے عہد یداران نے باری باری زیارت کی۔بعد ازاں جملہ احباب باری باری ایک قطار کی شکل میں حضرت میاں صاحب کے جنازہ کے پاس سے تیز رفتاری سے گزر کر زیارت کا شرف حاصل کرتے رہے۔یہ سلسلہ ۲ بجے سے لے کر سوا پانچ بجے تک مسلسل جاری رہا اس عرصہ میں قریباً دس ہزار افراد چہرہ مبارک کی آخری زیارت سے مشرف ہوئے اس کے باوجود احباب کی ایک بہت بڑی تعدادا بھی باقی تھی چنانچہ مجبوراً اس سلسلہ کو بند کرنا پڑا۔اس موقعہ پر محروم دیدار احباب کی بیتابی اور اضطراب کی حالت قابل دید تھی وہ ڈیوٹی پر مقر را فراد کی منتیں کرتے بے حال ہوئے جارہے تھے کہ کسی طرح انہیں اپنے جان و دل سے عزیز مربی محسن کے چہرہ مبارک کی آخری بار ایک جھلک نصیب ہو جائے۔ادھر جن احباب کو آخری دیدار کا شرف حاصل ہوا ان کی حالت بھی کچھ کم غیر نہ تھی کون سی آنکھ تھی جو آنسو نہ بہا رہی تھی اور کون سا دل تھا جو غم کی پوٹ نہ بنا ہوا تھا بعض احباب کی تو طبیعت پر ہزار ضبط کے با وجود چنیں نکل گئیں۔اس وقت بعض عمر رسیدہ اصحاب بچوں کی طرح روتے اور بلکتے ہوئے دیکھے 178