تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 102 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 102

تاریخ احمدیت۔جلد 22 102 سال 1963ء فریضہ ادا کرنے کا شرف حاصل ہوا تھا) نے دیا۔نیز غسل دینے میں مکرم مولا نا محمد احمد صاحب جلیل اور مکرم سید مبارک احمد شاہ صاحب اور مکرم حمید احمد صاحب اختر ابن مکرم عبدالرحیم صاحب مالیر کوٹلوی نے بھی حصہ لیا۔اور مذکورہ بالا ہر سہ اصحاب کا ہاتھ بٹایا۔بعد ازاں تجہیز و تکفین عمل میں آئی۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ کفن کا ایک حصہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دو اصحاب خاص حضرت قاضی محمد عبد اللہ صاحب اور محترم خواجہ عبید اللہ صاحب نے ہاتھ سے سیا تھا۔174 175 حضرت مصلح موعود کی خدمت میں حادثہ کی اطلاع سید نا حضرت مصلح موعود چونکہ خود لمبے عرصہ سے صاحب فراش تھے اس لئے رات کو حضور کی خدمت میں عمد یہ خبر نہ پہنچائی گئی۔حضورا نور صبح بیدار ہوئے تو حضرت میاں صاحب کے متعلق خود ہی دریافت فرمایا جس پر حضرت ام متین نے اس حادثہ کی اطلاع دی اور پھر الفضل کا تازہ پر چہ بھی سامنے کر دیا جس میں نہایت جلی حروف سے حضرت صاحبزادہ صاحب کی وفات کی مفصل خبر دی گئی تھی۔حضور کو طبعی طور پر اس کا بے حدصدمہ اور قلق ہوا لیکن آپ نے رضا بالقضاء کی ایسی حیرت انگیز مثال قائم کی جو ہمیشہ مشعل راہ رہے گی پہلے دو روز تو آپ اس حادثہ کا ذکر کرنے سے بھی گریز کرتے رہے لیکن ضبط کی وجہ سے چہرہ پر سرخی آ جاتی تھی۔اپنی صاحبزادی امتہ القیوم صاحبہ ( بیگم صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب) سے فرمایا کہ میاں صاحب مجھ سے چھوٹے تھے ایک اور موقع پر حضرت مرزا شریف احمد صاحب کی وفات کا ذکر کیا اور بچپن کے بعض واقعات بھی بیان فرمائے۔پاکستان اور بیرون ملک سے ہزاروں مشتاقان دید کی آمد 176 حضرت میاں صاحب کی وفات کی خبر سن کر ۲ ستمبر کی شب کو ہی بیرون جات کے احباب ربوہ پہنچنے شروع ہو گئے۔لیکن ستمبر کی صبح سے تو باہر سے آنے والے احباب کا ایک تانتا بندھ گیا۔ہزاروں مشتاقان دید ملک کے طول و عرض سے اس برگزیدہ ہستی کی نماز جنازہ اور آخری دیدار کے لئے گاڑیوں اور بسوں سے پہنچ گئے۔آنے والوں کی کثرت سے جلسہ سالانہ کے مہمانوں کی آمد کا نقشہ آنکھوں کے سامنے آ گیا۔مسافروں سے لدی ہوئی لاریوں کی آمد کا سلسلہ ۳ ستمبر کی صبح سے شروع ہو کر شام تدفین کے وقت تک برابر جاری رہا۔صاحبزادہ مرزا منیر احمد صاحب کی ہدایت پر طارق ٹرانسپورٹ کی تمام بسیں سارا دن لوگوں کور بوہ لانے میں مصروف رہیں۔