تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 94 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 94

تاریخ احمدیت۔جلد 22 94 سال 1963ء دعویٰ کیا۔الغرض یہ تھا اصل مفہوم و مقصود اسلام کا جو افسوس ہے کہ عہد سعادت وعہد خلفاء راشدین کے بعد رفتہ رفتہ فراموش ہو گیا اور مسلمان بجائے اس کے کہ وہ دوسروں کو اصلاح و اجتماع کی دعوت دیتے خود افتراق و انتشار کا شکار ہو گئے اور مذہب نام رہ گیا صرف روایات کا۔یہ حالت صدیوں تک جاری رہی یہاں تک کہ اسلام کو مرد بیمار سمجھ کر چاروں طرف سے اس پر حملے ہونے لگے اور اس کی کسمپرسی انتہاء کو پہنچ گئی۔یہی وہ وقت تھا اور یہی وہ فضا تھی ہندوستان کی جب ایک مرد عمل سرزمین قادیان سے اٹھا اور اس نے تن تنہا تمام مخالف طوفانوں کا مردانہ وار مقابلہ کر کے دنیا پر ثابت کر دیا کہ خدا کا روشن کیا ہوا چراغ مدھم تو ہو سکتا ہے لیکن اسے بجھایا نہیں جاسکتا۔لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ (التوبة: ٣٣) اس وقت مجھے اس سے بحث نہیں کہ (حضرت) مرزا غلام احمد صاحب نے اپنے آپ کو کس حیثیت سے پیش کیا یا یہ کہ اپنے آپ کو کیا سمجھا بلکہ صرف یہ کہ کیا کیا یا کیا کر دکھایا اور کیونکر ایسی مضبوط اور باعمل جماعت قائم کر سکے جس کی بے پناہ عملی قوت کا اعتراف ان کے مخالفین کو بھی ہے۔وَذَالِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاء احمدی جماعت کے قیام کو زیادہ زمانہ نہیں گذرا تاہم اتنا زمانہ یقینا گزر چکا ہے کہ اگر یہ تحریک بے جان ہوتی اور اس کی بنیاد کمزور ہوتی تو دوسری جماعتوں کی طرح یہ بھی ختم ہو چکی ہوتی لیکن جس وقت ہم دیکھتے ہیں کہ یہ تحریک ایک مختصر گاؤں سے شروع ہو کر نصف صدی کے اندر تمام دنیا کے تمام گوشوں تک پہنچ جاتی ہے تو ہم کو اس کی استقامت عزم کا اعتراف کرنا پڑتا ہے اور یہ استقامت کسی جماعت میں اسی وقت پیدا ہو سکتی ہے جب اس کا بانی ومؤسس خود بڑا مخلص انسان ہو۔کیست که کوشش فرہاد نشاں باز دهد مگر آن نقش که از تیشه به خار اماند جماعت احمدی کا دائرہ عمل جس حد تک وسیع ہو چکا ہے اس کی تفصیل کا موقع ہے نہ ضرورت لیکن اس وقت یہ ظاہر کر دینا غالباً نا مناسب نہ ہوگا کہ اس کا نصب العین صرف قرآن اور اسلامی لٹریچر کی اشاعت ہی نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ تعلیمات اسلام، اخلاق اسلام اور غایت ظہور اسلام کی عملی مثالیں بھی قائم کرنا ہے۔یعنی وہ صرف یہ کہہ کر خاموش نہیں ہو جاتے کہ اخلاق بلند کرو بلکہ اپنے کردار عمل سے بھی اس تعلیم کی برکات کا ثبوت دیتے ہیں اتنا صاف ، روشن اور واضح ثبوت جس سے غض بصر ممکن