تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 93
تاریخ احمدیت۔جلد 22 93 سال 1963ء ڈاکٹریٹ کی یہ دوسری اہم اعزازی ڈگری تھی جو ۱۹۶۳ء میں حضرت چوہدری صاحب کو عطا کی گئی۔جون میں کولمبیا یو نیورسٹی نے آپ کو ڈا کٹر آف لاز کی ڈگری دی تھی۔جناب عبد السلام میڈسن کا دورہ متحدہ عرب جمہوریہ 161 جمہوریہ ڈنمارک کے مشہور ڈینیش نواحمدی جناب عبد السلام صاحب میڈسن نے جولائی ۱۹۶۳ء میں متحدہ عرب جمہوریہ کا مطالعاتی دورہ کیا۔اس سلسلہ میں النشرة الثـقــافيـة الجمهورية العربية المتحدة کے بلیٹن بابت ماہ اگست ۱۹۶۳ء میں درج ذیل خبر شائع ہوئی۔جولائی ۱۹۶۳ء کو شیخ عبد السلام مداسین ( میڈسن ) شیخ المسلمین ڈنمارک اسکندر یہ پہنچ گئے۔۱۵ طالبات اور ۵ طلباء بھی ان کے ہمراہ تھے جو اس سال ڈنمارک میں مشرف باسلام ہوئے انہوں نے متحدہ عرب جمہوریہ کا دورہ کیا۔وزارت تعلیم نے اہم مقامات اور دینی و ثقافتی مراکز دیکھنے کا ایک جامع پروگرام مرتب کیا۔فضل عمر پبلک لائبریری" کراچی کا افتتاح اور علامہ نیاز فتح پوری کا پُر اثر خطاب ۳۰ اگست ۱۹۶۳ء کو مجلس خدام الاحمدیہ کراچی کے زیر اہتمام فضل عمر پبلک لائبریری‘“ (مارٹن روڈ ) کی افتتاحی تقریب عمل میں آئی اس موقعہ پر علامہ نیاز فتح پوری نے ایک پر اثر خطاب کیا۔آپ نے فرمایا:۔احمدی تحریک کا ذکر تو میں عرصے سے سنتا چلا آ رہا تھا۔لیکن خود اس پر غور وفکر کرنے کا موقع حال ہی میں ملا۔اور میں اس نتیجے پر پہنچا کہ اگر تعلیم اسلام کا مقصود واقعی بلند کردار ، حسنِ عمل اور طہارت نفس ہے (جس سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا ) تو اس وقت غالبا احمدی جماعت ہی وہ جماعت ہے جس نے صحیح معنے میں اس مقصد عظیم کو سمجھا اور اسے اجتماعی حیثیت بخشی۔تمام مذاہب عالم میں صرف اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس نے ارتقاء انسانی کا یہ بلند نظریہ پیش کیا اور اس کو بروئے کارلانے کے لئے عقائد کو یکسر عمل میں تبدیل کر دیا۔دنیا کے تمام مذاہب مخصوص تھے مخصوص اقوام کے لئے۔لیکن اسلام کا خطاب تمام عالم انسانی سے تھا۔معمورہ دنیا کی پوری ہیئت اجتماعی سے تھا اور اسی بناء پر اس نے اکمل ادیان عالم ہونے کا