تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 90 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 90

تاریخ احمدیت 90 کہ ان کے متعلق مکمل فہرست حاصل نہ ہو سکی لیکن اندازہ کیا جاتا ہے کہ اس سال سینکڑوں طلبہ افریقہ سے بھارت میں تعلیم کی غرض سے آتے ہیں۔یہی جوان طلبہ کل ان افریقی ممالک کے لیڈر ہوں گے۔اور ان کے توسط سے بھارت کو جو سیاسی فائدہ پہنچے گا۔اس کا آسانی سے اندازہ کیا جاسکتا ہے۔افریقہ میں اگر کوئی پاکستانی مذہبی جماعت بطور مشنری کام کر رہی ہے تو وہ جماعت احمدیہ ہے۔مشرقی افریقہ میں مسلمانوں کی آبادی 15 فیصد ہے جس میں ایسٹ افریقن ٹائمنر کے بیان کے مطابق 10,000 افریقی لوگ احمدی ہیں پرتگیزی مشرقی افریقہ میں تقریباً دس لاکھ افریقی مسلمان ہو چکے ہیں جن میں سے غالب اکثریت احمدیوں کی ہے۔کینیا کے سرحدی صوبوں میں اسلام کو فروغ ہو رہا ہے اور یہاں بھی غالب اکثریت احمدیوں کی ہے۔نیروبی میں تو خیر احمدیوں نے ایک بہت بڑا مذہبی تبلیغی مرکز قائم کر رکھا ہے جو روزانہ انگریزی اخبار بھی شائع کرتا ہے۔اور اس کے علاوہ تعلیم کے لئے اس سینٹر نے کالج وغیرہ بھی قائم کر رکھے ہیں۔ہمیں احمدیت سے شدید اختلافات ہیں اور ہم عقیدہ ختم نبوت کے مسئلہ میں احمدیوں بالخصوص قادیانی فرقہ کے تصورات کو بالکل باطل اور گمراہ سمجھتے ہیں۔اور سواداعظم کی طرح ان تصورات سے نفرت و بیزاری کا اظہار کرتے ہیں۔لیکن اس کے باوجود ہمیں ان کی مساعی کی داد دینی پڑتی ہے۔بلی گراہم جب اپنے حالیہ دورہ میں گئے تو اسلام کی طرف سے اگر کسی جماعت نے انہیں مباحثہ کی دعوت دی تو وہ جماعت احمدیہ تھی۔کینیا ، یوگنڈا اور ٹا نگانیکا میں اس وقت 2,500,000 مسلمان آباد ہیں۔لیکن ان کی تعلیمی حالت بہت ہی کمزور ہے۔عیسائی مشنری سکولوں اور کالجوں کے ذریعہ سے طلبہ کو عیسائیت کی طرف راغب کر رہے ہیں۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا جماعت احمدیہ کے سوا پاکستان میں اور کوئی مذہبی جماعت موجود نہیں جو افریقہ میں اسلام کی تبلیغ کے کام کو انجام دے سکے پاکستان میں جماعت اسلامی بہت ہی بااثر جماعت ہے۔مولانا مودودی کے سیاسی خیالات سے ہمیں بہت زیادہ اختلافات ہیں لیکن ہمیں اس بات کا پورا پورا یقین ہے کہ اگر وہ افریقہ میں مشنری کام کا بیڑہ اٹھائیں تو اس سے صرف اسلام کی ہی نہیں بلکہ پاکستان کے علاوہ انسانیت کی خدمت بھی ہوگی حقیقت یہ ہے کہ آج تک جلد 21