تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 648
تاریخ احمدیت کینیا 648 جلد 21 6 مئی 1962ء کو جماعت احمدیہ کی دعوت پر بھارت کے کمشنر نیروبی کی مسجد میں تشریف لائے اس موقع پر ایک تقریب میں مولانا نور الحق صاحب انور نے تقریر کی جسکے بعد کمشنر کی خدمت میں دعوت الأمیر اور قرآن مجید انگریزی کا تحفہ پیش کیا جسے موصوف نے شکریہ سے قبول کیا۔مکرم مولانا شیخ مبارک احمد صاحب لکھتے ہیں کہ ”راک (Rock) کرسچین کونسل آف کینیا کا ایک موقر اخبار ہے اور نیروبی سے شائع ہوتا ہے اس میں اور بعض دوسرے اخبارات میں دو سال کی بات ہے ”غلامی کے موضوع پر اسلام کے خلاف اور حضرت رسول اکرم صلے اللہ علیہ وسلم کے خلاف زہرا گلا گیا۔چنانچہ احمد یہ مشن نے فوری طور پر اخبار مذکور کو ایک مفصل خط لکھا اور اس کی غلطی کو اس پر واضح کرتے ہوئے مدلل طور پر بتایا کہ اسلام اور حضرت بانی اسلام صلے اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات اس الزام سے بری اور پاک ہیں۔اور کوئی قرآن کریم کی آیت یا آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ایسا نہیں پیش کیا جا سکتا جو غلامی کی حمایت میں ہو۔برعکس اس کے غلامی کو سخت گناہ اور خدا تعالیٰ کے ساتھ جنگ کے برابر قرار دیا گیا ہے۔چنانچہ اخبار مذکورہ کے ایڈیٹر ریورنڈ بوتھ (Revrand Booth) نے ملاقات کی خواہش کی۔احمد یہ مشن نیروبی کے دفتر میں مقررہ وقت پر وہ آئے۔اور دو تین گھنٹہ تک اس مسئلہ پر خاکسار سے مفصل گفتگو ہوئی اور خدا کے فضل سے وہ اس بات کو تسلیم کر کے اٹھے کہ فی الواقعہ اسلام اور آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی ذات پر یہ بے بنیاد الزام ہے۔اس سے پہلے وہ اپنے اخبار میں ہمارا جوابی خط شائع کرنے کے لئے بھی تیار نہ تھے لیکن بعد میں خط کا خلاصہ بھی شائع کیا اور اپنی طرف سے مندرجہ ذیل نوٹ لکھا:۔"We entirely agree that Christians have frequently made ignorant, prejudiced and uncharitable attacks we are deeply sorry"۔ہم اس بات کا پورے طور پر اعتراف کرتے ہیں کہ عیسائیوں نے اسلامی عقائد پر جہالت، تعصب اور غیر رواداری کے جذبہ کے ساتھ نکتہ چینی اور اعتراضات کئے ہیں۔اور اس وجہ سے ہم گہرے تاسف اور ندامت کا اظہار کرتے ہیں۔اگر مشرقی افریقہ میں احمدیہ مشن سا ایک منظم ادارہ تبلیغ اسلام کے فریضہ کو انجام دینے کے لئے نہ ہوتا تو کیا یہ عظیم کام ہوسکتا اور دوسرے شاندار کام انجام پاسکتے تھے؟ ایک عیسائی پادری کاعلی الاعلان اپنے