تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 625 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 625

تاریخ احمدیت 625 جلد 21 یہ اپنی نوعیت کا پہلا ہائی سکول تھا اس میں نہ صرف دنیوی تعلیم کا اہتمام تھا بلکہ اسلامی تعلیم کی روشنی میں طلباء کو اعلیٰ کردار کے جملہ اوصاف سے متصف کرنے کا اہتمام کیا گیا۔اس سکول کے قیام میں جماعت احمدیہ برٹش گی آنا کے احباب نے بہت بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔مبلغ امریکہ محترم صوفی عبدالغفور صاحب وسط 1962ء میں کینیڈا تشریف لے گئے آپ نے یہاں کے ایک قصبہ ونڈسر سے نکلنے والے اخبار ”ونڈ سر سٹار کے ایڈیٹر سے ملاقات کر کے ڈیڑھ گھنٹہ تک اسلام اور احمدیت کے متعلق گفتگو کی اس اخبار نے 21 جون 1962 ء کی اشاعت میں جماعت کا ذکر کرتے ہوئے لکھا: احمد یہ تحریک کی بنیا د احمد قادیانی کے ہاتھوں پڑی ان کی وفات 1908 ء میں ہوئی اور انہیں ان کے پیر و مسیح مانتے ہیں۔۔۔۔اسی تحریک کے ایک مبلغ مسٹر صوفی نے کہا اگر انگریزی بولنے والی اقوام کو دوستوں کی احتیاج ہے تو اس کا بہترین دوست اور سہارا اسلام ہی ہے۔۔۔۔ہم سارے عالم میں عموماً اور مسلمانوں میں خصوصاً دین کی روح پھونکنا چاہتے ہیں مارکسنرم کے ماننے سے خدا تعالیٰ پر ایمان ترک کرنا پڑتا ہے۔“ صوفی صاحب نے سڈنی“ شہر میں ایک اخبار کے ایڈیٹ کو ٹیچنگز آف اسلام دی۔آپ نے ٹورنٹو میں عیسائیوں کے سوالوں کے جواب دئیے موصوف نے یہاں کے چوٹی کے اخبار ” گلوب اینڈ میل (Globe And Mail) کے ایڈیٹر سے 1/2-2 گھنٹہ تک ملاقات کی۔اخبار نے 30 جون 1962ء کی اشاعت میں ملاقات کا مفصل ذکر کرتے ہوئے لکھا:۔66 سلسلہ احمدیہ کی بنیاد 1889 ء میں حضرت مرزا غلام احمد نے رکھی۔آپ نے قرآنی تعلیم کی وضاحت میں 84 کتب تصنیف فرما ئیں آپ کے پیرووں کی اکثریت ایشیا اور افریقہ میں پائی جاتی ہے لیکن انگلستان اور یورپ میں بھی انکے مرید موجود ہیں۔امریکہ میں انکی تعداد کئی ہزار ہے وہاں انکی چار مسجد میں ہیں۔آپ کے فرزند مرزا بشر الدین محمود احمد خلیفہ امسیح الثانی جماعت کے منتخب امام ہیں انکا مرکز ربوہ مغربی پاکستان میں ہے بقول مسٹر صوفی اس وقت قریبا دوصد مبلغ اسلام کی تبلیغ میں کوشاں ہیں ان کا کہنا ہے کہ اسلام کے شمالی امریکہ میں کامیابی کے بہت امکانات ہیں۔