تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 52 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 52

تاریخ احمدیت 52 جلد 21 بعض مواقع پر بتوفیق ایز دی خاکسار کو بھی نماز جمعہ پڑھانے کے مواقع ملے۔جن میں اسلام اور احمدیت کے مختلف پہلوؤں پر خیالات کا اظہار کیا گیا۔فالحمد للہ اس عرصہ میں مکرم جناب امام صاحب کو پبلک یونیورسٹی ہیگ کے ڈائریکٹر صاحب، پاکستان، متحدہ جمہور یہ عرب لڑکی اور ایرانی سفارت خانوں کے افسران سے ملاقات اور گفتگو کے مواقع ملے۔نیز آپ نے ایران کے نئے آمدہ سفیر صاحب سے سفارت خانہ کبری ایران میں جا کر ملاقات کی اور انہیں مسجد ہالینڈ کی مساعی برائے اشاعت اسلام سے متعارف کرایا اور سابق سفیر ایران جناب معتمدی صاحب کے مخلصانہ تعلقات سے آگاہ کیا اس موقع پر خاکسار بھی ہمراہ تھا۔سفیر موصوف بڑی خوش خلقی سے پیش آئے اور دیر تک گفتگو کرتے ہوئے جماعت کی تبلیغی مساعی کے متعلق معلومات حاصل کرنے میں دلچسپی فرماتے رہے۔مشن کی طرف سے مکرم امام صاحب نے ان کی خدمت میں کتاب لائف آف محمد بطور تحفہ پیش کی۔جسے انہوں نے بڑی خوشی سے قبول فرمایا۔مشن کے ماہانہ رسالہ الاسلام کے سلسلہ میں نیز فرانسیسی ترجمہ قرآن کریم و دیگر لٹریچر کی تیاری کے بارہ میں مکرم حافظ صاحب کو پہلی بار منتظمین پریس سے ملنا پڑا۔خاکسار نے اس سلسلہ میں معلومات کے لئے مختلف مطبع خانہ میں جا کر کارکنان سے ملاقات کی۔ایک کٹر قسم کے عیسائی مکتب فکر کے یہوواہ وٹنس کے دو واعظین سے مکرم امام صاحب کی دو دفعہ گفتگو ہوئی۔خاکسار نے بھی ایک بار ان سے تبادلہ خیالات کیا۔دونوں واعظین اللہ تعالیٰ کے فضل۔احمدیت کے مسکت استدلال کا کوئی جواب نہ دے سکے۔اور بڑے پادری صاحب سے مشورہ کر کے جوابات دینے کا وعدہ کر کے تشریف لے گئے۔مشن کے پبلک جلسوں اور دیگر تبلیغی مساعی کے اعلانات ور پورٹوں کی اشاعت کے سلسلہ میں خاکسار نے متعدد بار اخباری مراکز میں جا کر منتظمین حضرات سے انفرادی طور پر ملاقاتیں کیں جو نتیجہ خیز ثابت ہوئیں۔ایک کیتھولک پادری صاحب خاص طور پر مسجد میں تشریف لائے اور اسلام اور احمدیت کے متعلق مختلف سوالات کرتے رہے۔خاکسار ان سے گفتگو کرتا رہا اور جملہ سوالات کا جواب دیتے ہوئے مطلوبہ معلومات مہیا کیں۔مذہبی گفتگو کے دوران خاکسار کے دریافت کرنے پر کہ آپ تثلیث اور الوہیت کے مسئلہ کو دوسرے لوگوں کے سامنے کن دلائل کے ساتھ پیش کرتے ہیں؟ آپ نے کہا کہ ہمارے عقیدے