تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 591 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 591

تاریخ احمدیت 591 جلد 21 بزرگ تھے۔آپ اپنی اہلیہ اور ہمشیرہ کے ساتھ دسمبر میں قادیان جانے اور اگلے سال حج بیت اللہ کرنے کا پروگرام بنا رہے تھے کہ اچانک مولائے حقیقی کا بلاوا آ گیا۔20 انا للہ وانا الیہ راجعون۔اولاد خلیفہ عبدال صاحب خلیفہ عبدالوهاب صاحب خلیفہ عبدالمومن صاحب خلیفہ عبدالوکیل صاحب خلیفہ عبدالعزیز صاحب محترمہ امته الرفیق صاحبه محترمہ امتہ الحمید صاحبه 244 حضرت مولوی حبیب اللہ صاحب آسنور ضلع اسلام آباد کشمیر ولادت انداز 18821 ء 245 بیعت 246 دسمبر 1901 ء وفات 27 نومبر 1962ء 247 قصبہ آسنور کو یہ فخر حاصل ہے کہ اس مردم خیز خطہ میں پانچ نہایت مخلص رفقاء پیدا ہوئے یعنی حضرت حاجی عمر ڈار صاحب، حضرت مولوی حبیب اللہ صاحب ، حضرت خواجہ عبدالرحمن صاحب میر ، حضرت محمد صاحب وانی یہی پانچوں صحابہ سارے کشمیر میں اشاعت احمدیت کا موجب ہوئے اور انہی کے چراغوں سے چراغ روشن ہوتے گئے۔ان مبارک وجودوں میں آخری صحابی حضرت مولوی حبیب اللہ صاحب تھے۔محترم جناب خواجہ سعید احمد صاحب ڈار جنرل سیکرٹری صوبائی انجمن احمد یہ کشمیر ک تحریری بیان ہے کہ۔حضرت مولوی صاحب اپنی ذات میں ایک انجمن تھے اور اپنی تمام عمر نہ صرف اہل آسنور کے لئے بلکہ گردو نواح کے تمام احمدیوں اور غیر احمدیوں کے لئے مشعل ہدایت بنے رہے۔چنانچہ قریبی گاؤں سرگام کے ایک بزرگ لوگوں کو نصیحت کیا کرتے تھے کہ اگر کبھی تمہیں احمدی بنا پڑا تو مولوی حبیب اللہ صاحب کی طرح کا احمدی بنا گویا آپ کے زہد و تقویٰ کا سکہ غیروں کے دلوں میں بھی بیٹھا ہوا تھا۔اپنی عمر کے آخری دنوں تک آپ اپنے ہاتھ سے روزی کماتے رہے کبھی محتاج نہ بنے بلکہ ہمیشہ دوسروں پر احسان کرتے رہے۔آپ کی زندگی کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ آپ نے اپنی ساری عمر خدا ، قرآن اور محمد کی حکومت اپنے اوپر قائم رکھی اور اپنی زندگی کا ہرلمحہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے تحت گذار نے