تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 590 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 590

تاریخ احمدیت 590 جلد 21 ملنے پر گورنر صاحب جناب خلیفہ صاحب مرحوم کے مکان پر خود گئے اور انہیں ساتھ لیکر چند ایک موزوں مقامات دکھلائے جس کے بعد خلیفہ صاحب نے مولوی عبد الواحد صاحب، خواجہ غلام نبی صاحب گل کار اور دیگر احباب سے مشورہ کر کے سرینگر کی تحصیل سے ملحق رقبہ کے لئے درخواست کی جس کا چند دنوں بعد قبضہ مل گیا۔حضور نے اطلاع ملنے پر مبارک باد دی۔جماعت نے فی الفور مسجد کمیٹی تشکیل کر کے خلیفہ صاحب کو اس کا صدر بنایا۔آپ کی توجہ اور کوشش سے چار دیواری اور دو کمرے مکمل ہو سکے تھے کہ تقسیم ملک عمل میں آگئی۔اسی طرح جموں میں خلیفہ صاحب کی مساعی سے ایک مخلص دوست نے احمد یہ بیت الذکر کے لئے رقبہ عنایت کیا اور خلیفہ صاحب کی کوششوں سے با موقعہ بیت الذکر تعمیر ہوگئی اس زمانہ میں کچھ عرصہ کے لئے ماسٹر امیر عالم صاحب پر یڈیڈنٹ انجمن احمد یہ کوٹلی جموں میں مقیم رہے۔ماسٹر صاحب موصوف جب خوش الحانی سے آذان دیتے یا تلاوت قرآن کرتے تو خلیفہ صاحب بہت خوش ہوتے تھے۔280 1944ء میں جماعت ہائے احمدیہ کشمیر کی تنظیم و تربیت کے لئے صوبائی نظام عمل میں آیا اور مولوی عبدالواحد صاحب دو بار صوبائی امیر مقرر ہوئے۔مولوی عبدالواحد صاحب کا بیان ہے کہ۔خلیفہ صاحب مرحوم نے تعاون و اطاعت نظام کا بہترین نمونہ دکھایا ان کی معاونت اور مفید مشوروں نے میری ذمہ داریوں کو آسان بنا دیا اور آج تک میرے دل سے ان کے لئے دعا نکلتی ہے۔20 تقسیم ملک کے چند ماہ بعد آپ جموں سے ہجرت کر کے سیالکوٹ میں مقیم ہوئے ان کے وسیع تجربے کی بناء پر سردار محمدابراہیم صاحب صدر حکومت آزاد کشمیر نے انہیں ریونیو سیکرٹری مقرر کیا مگر بعض ریاستی لیڈروں نے (جن میں بعض حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے پروردہ بھی تھے ) ذمہ دار آسامیوں سے احمدیوں کی علیحدگی کی تحریک شروع کر دی جس میں پہلا نمبر مولوی عبدالواحد صاحب اور دوسرا غالباً آپ کا تھا حالانکہ سب ان بزرگوں کی ملی خدمات کے معترف تھے۔2 خلیفہ صاحب سیالکوٹ کی جماعت احمدیہ کے کاموں میں زندگی کے آخری سانس تک سرگرمی سے حصہ لیتے رہے آپ مقامی مجلس عاملہ کے رکن اور محترم امیر صاحب ضلع سیالکوٹ (با بو قاسم الدین صاحب) کے مشیر خاص تھے۔خلیفہ صاحب کو حضرت مصلح موعود سے غیر معمولی عقیدت تھی حضور بھی آپ پر نظر شفقت فرماتے تھے۔آپ کا دستور تھا کہ اپنی ہر ضرورت اور تکلیف میں حضور سے مشورہ اور رہبری طلب کرتے اور اس مقصد کے لئے اکثر حضور کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے تھے۔نہایت مخلص دیندار عابد، ملنسار اور مہمان نواز