تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 581 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 581

تاریخ احمدیت 581 جلد 21 حضور علیہ السلام تشریف لائے اور اپنا الہام سنایا کہ عید تو ہے چاہے کرو چاہے نہ کرو پھر آپ نے مولوی محمد احسن صاحب کو حکم دیا کہ آپ وفات مسیح پر تقریر کریں۔۔۔۔ان کی تقریر کے بعد حاضرین نے باری باری حضرت اقدس علیہ السلام سے مصافحہ کیا اور آپ کے ہاتھ کو اکثر نے بوسہ دیا اور نذرانہ بھی قریباً تمام احباب نے پیش کیا۔بعض احباب نے سوال کیا کہ حضور کیا ہم روزہ چھوڑ دیں۔حضور خاموش رہے، لوگوں نے تین دفعہ سوال کیا مگر حضور تینوں دفعہ خاموش رہے اور کوئی جواب نہ دیا اسپر بعض احباب نے روزہ چھوڑ دیا اور بعض نے رکھے رکھا۔دوسرے روز عید کی نماز پڑھی گئی۔عید کی صبح کو حضور نے کھانے کا انتظام کیا۔پلاؤ نمکین ہر ایک مہمان کو کھلایا گیا۔چوہدری صاحب کی ظاہری تعلیم اگر چہ پانچ چھ جماعت تک تھی مگر دینی مسائل پر خوب عبور حاصل تھا۔آپ شروع سے ہی صوم وصلوٰۃ کے سخت پابند تھے اور ابتدائی موصیوں میں سے تھے آپ کا وصیت نمبر 205 ہے۔آپ ابتدا میں کچھ عرصہ محکمہ مال میں ملازم رہے۔1920ء کے قریب آپ کو خدا کے فضل اور حضرت نواب محمد الدین صاحب کی وساطت سے پونے چار مربع زمین چک 2/55 ایل ( تحصیل وضلع اوکاڑہ میں مل گئی اور آپ نے یہاں مستقل سکونت اختیار کر لی آپ اعلی درجہ کے سخی تھے۔غرباء، یتامی ، بیوگان کی مدد کرنا عمر بھر آپ کا شعار رہا۔مزارعوں کے ساتھ بہت نرمی و محبت کا سلوک کرتے تھے۔تمام گاؤں کے لوگوں کے ساتھ بڑی الفت اور پیار سے پیش آتے۔کبھی کسی فقیر کو خالی ہاتھ نہ جانے دیتے تھے۔اگر کوئی قرض مانگتا تو اسے قرض دینے کی بجائے کچھ رقم بطور امداد دے دیتے۔آپ کو دعاؤں میں بہت شغف تھا دن رات دعاؤں میں مصروف رہتے جماعت کے امیر تھے اور ساتھ ہی امام الصلوۃ اور سیکرٹری مال کے فرائض بھی نہایت خلوص و اہتمام سے بجالاتے تھے۔حضرت مصلح موعود سے والہانہ عقیدت تھی۔مجلس مشاورت میں ہمیشہ اپنے گاؤں سے بطور نمائندہ منتخب ہوتے اور عمدہ پیرا یہ میں اپنے خیالات کا اظہار فرماتے تھے۔جلسہ سالانہ پر ضرور حاضر ہوتے دو تین دن پہلے پہنچتے اور نئے سال کے آغاز کے بعد مرکز سے روانہ ہوتے۔ربوہ میں چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ کے پاس قیام فرماتے۔مرکز میں رہنے والوں کی بہت عزت کرتے۔اکثر ملنے والوں کو تحفہ پیش کرتے تحفہ پیش کرنا ان کی عادت تھی اپنے عزیز واقارب کو بھی تحائف پیش کرتے رہتے تھے۔جب مرکز میں آتے کافی رقم ساتھ لاتے لیکن جب واپس جاتے تو کسی رشتہ دار یا عزیز سے رقم لیکر واپسی کے اخراجات پورے کرتے گھر پہنچ کرفور ارقم بذریعہ منی آرڈر ارسال کرتے اور