تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 543
تاریخ احمدیت 543 جلسه سالانه قادیان جلد 21 اس سال قادیان دار الامان کا عظیم الشان جلسہ سالانہ اپنی مقدس روایات کے مطابق 18-19-20 دسمبر 1962ء کو منعقد ہوا جو یاتون من كل فج عميق کی الہامی صداقت کا جیتا جاگتا نشان تھا۔جلسہ میں ہندوستان کے طول و عرض سے پندرہ سولہ سو سے متجاوز احمدیوں نے شرکت فرمائی۔پنجاب کے مختلف مقامات سے بعض غیر از جماعت اصحاب بلکہ غیر مسلم معززین بھی محض جلسہ کی خاطر قادیان آئے۔افریقہ عدن اور ماریشس کے بعض مخلصین کے علاوہ 200 پاکستانی احمدیوں پر مشتمل قافلہ بھی دیار حبیب میں پہنچا اور اس مبارک اجتماع کی برکات سے مستفید ہوا۔امیر قافلہ قریشی محمود احمد صاحب ایڈووکیٹ لاہور تھے۔قافلہ میں مولانا ابوالعطاء صاحب مدیر الفرقان سید داؤد احمد صاحب پر نسپل جامعہ احمدیہ مولانا نذیر احمد صاحب مبشر مبلغ غانا ، مہاشہ محمد عمر صاحب فاضل۔مولوی غلام باری صاحب سیف پروفیسر جامعه احمدیہ شیخ عبد القادر صاحب محقق ،عیسائیت شیخ نصیر الدین صاحب مبلغ سیرالیون اور مولوی محمد اسماعیل صاحب منیر مبلغ ماریشس بھی شامل تھے۔ان حضرات نے اور ہندوستان کے دیگر ممتاز احمدی علماء نے پرمغز تقاریر فرمائیں۔شمع احمدیت کے پروانوں نے جلسہ کے ایام ذکر الہی اور پر سوز دعاؤں کے روحانی ماحول میں گزارے اور علم و عرفان کی جھولیاں بھر کر واپس آئے۔اس جلسہ کے لئے سیدنا حضرت مصلح موعود اور حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے روح پرور پیغامات ارسال فرمائے جو اس کے افتتاحی اجلاس میں بالترتیب قریشی محمود احمد صاحب اور سید داؤ د احمد صاحب نے پڑھ کر سنائے۔حضرت مصلح موعود کے ایمان افروز پیغام کا مکمل متن یہ ہے۔اعوذ بالله من الشيطن الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم ھوالناصر خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ برادران جماعت احمد یہ بھارت! السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ میری خلافت کے ابتدائی زمانہ کا واقعہ ہے کہ میں نے ایک دفعہ کشفی طور پر دیکھا کہ ایک شخص جس کا نام مجھے عبدالصمد بتایا گیا کھڑا ہے اور وہ یہ کہ رہا ہے کہ۔مبارک ہو قا دیان کی غریب جماعت تم پر خلافت کی برکتیں یار رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔“ یہ الہام گو عمومی رنگ میں ہماری ساری جماعت پر ہی چسپاں ہو سکتا ہے۔مگر اس حقیقت سے بھی