تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 535 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 535

تاریخ احمدیت 535 جلد 21 جو کہ فلاں جگہ پنجرے میں بند ہے۔چنانچہ وہ اس طوطے کی گردن مروڑ کر جن کو ہلاک کر دیتا ہے۔اگر ہم استعارے کی زبان استعمال کریں۔تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ اسلام کی جان محض تبلیغ کے اندر ہے۔آپ نے فرمایا کہ تبلیغ کے ذریعہ انسان کی اپنی اصلاح ہوتی ہے۔جب وہ دوسروں کے پاس نیکی اور حق کا پیغام لیکر جاتا ہے تو وہ اپنا جائزہ لینے پر مجبور ہو جاتا ہے۔اور سوچتا ہے کہ کیا مجھ میں تو وہ خامیاں نہیں ہیں جن سے میں لوگوں کو منع کرنے چلا ہوں۔اگر افراد جماعت پیغام حق پہنچانے میں منہمک ہو جائیں تو جماعت میں خود بخو د اتحاد اور یک جہتی پیدا ہوتی چلی جائے گی۔داخلی اختلافات مٹتے چلے جاتے ہیں۔اور لوگوں میں خود بخو دا خلاص اور اطاعت کا مادہ پیدا ہوتا چلا جاتا ہے۔اس کے بعد آپ نے تبلیغ کا نہایت پر حکمت طریقہ بتایا کہ وہ سال بھر میں کم از کم ایک احمدی ضرور بنائیں۔آپ کی اس مختصر مگر نہایت ہی موثر تقریر کے بعد حاضرین میں سے ایک غیر احمدی بزرگ نے اپنا ایک خواب سنایا کہ ایک کمرہ ہے اور اس میں حضرت مرزا صاحب۔مولوی نورالدین صاحب اور شیخ یعقوب علی عرفانی صاحب تشریف فرما ہیں۔میں اندر داخل ہوا۔اور مرزا صاحب سے سوال کیا کہ حضرت یہ لوگ کہتے ہیں کہ عبد القادر جیلانی ہماری مدد کر کیا یہ درست ہے۔تو مرزا صاحب نے فرمایا "هذا شرك عظیم اس پر سب حاضرین مجلس کی زبانوں سے بے ساختہ سبحان اللہ کے کلمات نکلے۔بزرگ مذکور نے میاں صاحب سے درخواست دعا کی اور کہا کہ میں آپ لوگوں کو نیک اور محمد رسول اللہ کے جھنڈے کو بلند کرنے والا سمجھتا ہوں۔میاں صاحب نے فرمایا کہ آپ ایسا سمجھتے ہیں تو آپ بھی اعلائے کلمتہ الحق میں ہمارا ساتھ دیں۔اس پر انہوں نے کہا کہ قبلہ کیا کروں میری کچھ مجبوریاں ہیں۔(بزرگ مذکور کی عمر تقریبا 70 سال ہے۔متعد در فقاء حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے واقف ہیں۔آنکھوں سے نابینا ہیں )۔حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا کہ آجکل لوگ مذہب کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں ہیں۔میاں صاحب نے فرمایا کہ اس لئے کہ آپ خود سنجیدہ نہیں ہیں۔اگر آپ خود سنجیدہ ہو جائیں۔تو لوگ خود بخود سنجیدہ ہو جائیں گے۔آپ نے فرمایا کہ اگر آپ کسی شخص سے کہتے رہیں کہ میں تمہاری ٹوپی اتار کر بھاگ جاؤں گا۔یا میں تمہارا پین نکال کر بھاگ جاؤں گا۔تو وہ لازماً اسے مذاق ہی سمجھے گا۔اور سن کر مسکراتا رہیگا۔لیکن اگر آپ واقعی کسی شخص کی کوئی چیز چھین کر بھاگنے لگیں۔تو پھر کوئی بھی اسے مذاق نہیں سمجھے گا۔اور فوراً آپ پر جوابی حملہ کرے گا۔اسی طرح اگر کسی شخص کو یہ یقین ہو جائے کہ آپ اس کے خیالات کو بدلنا چاہتے ہیں اور اس کے غلط عقائد کو جسے اُس نے حق سمجھتے ہوئے اپنے خون سے سینچا ہے۔اکھاڑ پھینکنا چاہتے ہیں تو اُس کی سب سنجیدگی واپس آجائیگی۔اور اس میں اس قدر جوش اور ولولہ پیدا ہوگا کہ آپ یہ محسوس کئے