تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 504 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 504

تاریخ احمدیت 504 جلد 21 اقوام متحدہ کے سر براہ سفیر زورین بڑی پُر وقار شخصیت تھے۔جب کبھی انہیں اسمبلی کی عمارت کے اندر آپ سے ملاقات کا موقعہ ملتا وہ بڑے تپاک سے مصافحہ کرتے اور آپ کے ہاتھ کو اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر ”ہمارے محترم صدر۔ہمارے غیر جانبدار صدر کے الفاظ سے آپ کا خیر مقدم کیا کرتے تھے ایک بار وہ روس کے وزیر خارجہ گرومیکو (Andrei Gromy Ko) کے ساتھ آپ کے کمرے میں بھی آئے اور انہوں نے گفتگو کے دوران روس آنے کی دعوت دی۔کچھ دن بعد سفیر زورین پھر تشریف لائے اور فرمایا کہ وزیر خارجہ ماسکو واپس چلے گئے ہیں اور جاتے ہوئے مجھے تاکید کر گئے ہیں کہ آپ کو ان کی دعوت کی یاد دہانی کرادوں چنانچہ اگلے سال جون 1963 ء میں آپ روس تشریف لے گئے اور لینن گراڈ ، ماسکو، تاشقند اور سمرقند کی سیر کی۔اس دوران مسٹر خروشیف سے بھی ملاقات ہوئی۔وزیر خارجہ مسٹر گرومیکو نے آپ کے اعزاز میں دعوت طعام دی جس میں نائب وزیر خارجہ سابق سفیر زورین بھی شامل تھے۔مسٹر زورین قیام ماسکو کے دوران آپ کے ساتھ بہت محبت اور تواضع کا سلوک کرتے رہے۔148 نومبر 1962ء میں حضرت چودھری صاحب مسٹر اینڈریو کوری کی دعوت پر واشنگٹن تشریف لے گئے اور سینئر ڈپلومیٹس کے سمینار میں لیکچر دیا۔امریکی وفد متعینہ اقوام متحدہ کی طرف سے آپ کو بتایا گیا کہ صدر اسمبلی اپنی صدارت کے دوران اگر واشنگٹن جائے تو وہ صدر ریاستہائے متحدہ سے ضرور ملاقات کرتا ہے۔چنانچہ واشنگٹن جانے پر آپ کی صدر کینیڈی سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات ہوئی وہ بڑی بے تکلفی سے پیش آئے۔مختلف امور پر گفتگو ہوئی جن میں قضیہ کشمیر بھی تھا۔الغرض اللہ تعالیٰ نے کس شان کے ساتھ اپنے پیارے بندے کی دعاؤں کو شرف قبولیت بخشا اور قدم قدم پر تائید و نصرت فرمائی۔مگر رب کریم کی قدرت نمائی اور معجزانہ شان کا ظہور جس رنگ میں سترھویں اجلاس کے اختتام پر ہوا اُس نے پریس اور عالمی اسمبلی کے مندوبین کو سچ مچ ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ اگر چہ جنرل کمیٹی ایجنڈا مرتب کرنے کے ساتھ ہی سیشن کے ختم ہونے کی تاریخ بھی تجویز کرتی ہے۔جو 21-22 دسمبریا اس کے قریب قریب ہوتی ہے۔لیکن بحث اتنی طول کبھیچ جاتی کہ مجوزہ تاریخ پر اجلاس ختم نہ ہو سکتا اور کرسمس کی تعطیلات کے لئے ملتوی ہوکر جنوری میں جاری رہتا۔لیکن حضرت چودھری صاحب کے دور صدارت کے آخری ہفتے سے پہلے ہی دو ایک کمیٹیوں نے اپنا ایجنڈا ختم کر کے اپنا کام مکمل کر لیا پھر آخری ہفتے کے وسط تک بعض اور کمیٹیوں کا کام بھی پایہ تکمیل کو پہنچ گیا۔جس پر پریس کے نمائندگان میں کچھ ہلچل شروع ہوگئی کہ شاید سیشن اس دفعہ مقررہ تاریخ ( 22 دسمبر ) تک ختم ہو جائے۔کام کی رفتار سے تو اندازہ ہونا چاہیے تھا کہ 22 دسمبر تک اسمبلی اپنا ایجنڈا ختم کر کے کام پورا کرلے گی۔لیکن یہ ایسی