تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 485
تاریخ احمدیت 485 جلد 21 وجہ سے انکو مستر د کر دیا گیا۔اس بات کی تشہیر نہیں کی گئی۔ووٹنگ خفیہ ہوئی تھی۔تاہم مذکورہ بالا بات بالکل درست ہے۔اس طرح سے سیلون کے پروفیسر ملا لا سیرا کی شکست 38 ووٹوں سے ہوئی جبکہ کل ووٹ 100 تھے۔ان کے لئے کمیونسٹ ملکوں نے ووٹ ڈالے اور کیوبا اور یوگوسلاویہ، اسرائیل ، بھارت ، سیلون اور بعض نامعلوم ممالک تھے۔چوہدری ظفر اللہ کے حمائتیوں میں تمام عرب ممالک شامل تھے جن میں مصر، کئی افریقی ممالک مثلاً گنی ، مالی اور غانا ( لیوپولڈ ویل ) کانگو وغیرہ بھی تھے۔مختصر یہ کہ ووٹنگ معمول کی سیاسی وابستگی کی بنیاد پر نہیں ہوئی سوائے کمیونسٹ بلاک کے۔چوھدری ظفر اللہ کے کئی ایفرو ایشین حمایتی ممالک کو اعتدال پسند مگر بائیں باز و کارجحان رکھنے والے ممالک کہا جا سکتا ہے اور یہ بطور صدر اسمبلی انکی غیر جانبداری پر اعتبار کی دلیل ہے۔غیر جانبداری پر زور طریق کے مطابق انہوں نے اسمبلی ملتوی ہونے کے فورا بعد ایک پریس کانفرنس بلائی۔اور چونکہ ہم ہر سال اس تقریب کو دیکھتے ہیں اسلئے ہم جانتے ہیں کہ اسمیں کوئی خاص بات نہیں ہوا کرتی۔جونہی کوئی نمائندہ اسمبلی کا صدر بنتا ہے وہ اپنے ذاتی خیالات ترک کر دیتا ہے اور ساتھ ہی اپنے ملک کے خیالات کو بھی چھوڑ دیتا ہے۔پر یس کا نفرنس کے سارا وقت چوہدری ظفر اللہ نے تمام مسائل میں اپنی غیر جانبداری پر زور دیا اور اس ضمن میں کسی قسم کے تنازعہ میں پڑنے سے انکار کیا۔انہوں نے کہا ”صدر اسمبلی تمام اسمبلی کا نمائندہ ہوتا ہے اس کے کسی خاص حصے کا نہیں ہوتا۔‘“ لیکن جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ چھوٹے ممالک اپنے اور بڑے بڑے جنوں کے درمیان حائل فرق کو دور کرنے کیلئے کچھ کر سکتے ہیں تو انہوں نے مثبت امید کا اظہار کیا۔اور کہا کہ میں اس سلسلے میں ان کی فکروں میں شریک ہوں کیونکہ اس سلسلے میں کشیدگی جاری ہے اور اگر یہ کشیدگی ختم ہو جائے تو اس سے صرف بڑی طاقتوں کو ہی فائدہ نہیں پہنچے گا جو اسمیں براہ راست شریک ہیں بلکہ تمام انسانیت کو فائدہ پہنچے گا۔ہم تمام اس میں شریک ہوں گے۔خدا کرے کہ ایسا ہو۔عہدہ سنبھالنے کے وقت اپنی تقریر میں چوہدری ظفر اللہ نے مسٹر مونگی سلیم کے منصوبے کا ذکر کیا