تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 459 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 459

تاریخ احمدیت 459 جلد 21 آپ بہنوں کو بھی یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ یہ روحانی رشتہ سب رشتوں سے بڑھ کر ہے۔جہاں بھی آپ رہیں احمدی آپ کے بھائی ہیں۔وہاں کی مستورات آپ کی بہنیں ہیں۔یہی آپ کی برادری ہے۔یہی خاندان ہے۔میری دعا ہے کہ ہمارا رشتہ اخوت و محبت مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا جائے۔اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں سے نفاق، حسد، بخل اور نفرت کے جذبات کو بیخ و بنیاد سے اکھاڑ کر پھینک دے۔آمین۔خلوص محبت، ہمدردی اور رواداری کے جذبات زیادہ سے زیادہ ہوتے چلے جائیں۔میری طبیعت کل سے پھر خراب ہے۔میں نے جلدی میں خدا جانے کس طرح یہ لکھا ہے تا کہ آپ کی خواہش رد نہ کروں۔آخر میں میں آپ سب بہنوں کا شکریہ ادا کرتی ہوں جنہوں نے اتنی محبت سے بلایا اور ملنا چاہا کل میں جارہی ہوں۔اپنی دعاؤں میں مجھے یا درکھیں۔اللہ تعالیٰ آپ سب کا حافظ و ناصر ہو۔صدر مملکت پاکستان کا اہل ربوہ کی طرف سے پُر جوش خیر مقدم صدر مملکت فیلڈ مارشل محمد ایوب خاں رابطہ عوام کے خصوصی دورہ پر چناب ایکسپریس کے ذریعہ راولپنڈی سے کراچی جاتے ہوئے یکم اگست 1962ء کو صبح پونے 9 بجے کے قریب ربوہ سے گزرے۔اس موقعہ پر اہل ربوہ نے ہزاروں کی تعداد میں جمع ہو کر صدر مملکت کا نہایت گرمجوشی سے استقبال کیا۔ٹاؤن کمیٹی نے لوکل انجمن احمد یہ ربوہ اور مقامی مجلس خدام الاحمد یہ ربوہ کے تعاون سے صدر مملکت کے استقبال کے جملہ انتظامات ایک روز قبل ہی مکمل کر لئے تھے اور ربوہ کے شہریوں کو صبح آٹھ بجے تک ریلوے اسٹیشن پر جمع ہو جانے کی ہدایت کر دی تھی۔چنانچہ آٹھ بجے تک اسٹیشن کا پلیٹ فارم ، اس کی نو تعمیر شدہ عمارت کا برآمدہ اور ویٹنگ ہال زائرین سے پوری طرح بھر چکے تھے اور صدر مملکت کو خوش آمدید کہنے کیلئے سارا شہر امڈ آیا تھا۔سب احباب ایک خاص نظام کے تحت قطار وار کھڑے تھے۔پہلی دو قطار میں ٹاؤن کمیٹی کے ممبران، ناظر صاحبان صدر انجمن احمدیہ پاکستان وکلا ء صاحبان تحریک جدید اور غیر ممال میں فریضہ تلخ ادا کرنے والے مبلغین کرام کے لئے مخصوص تھیں۔جو نہی گاڑی سٹیشن پر آ کر رکی اور صدر مملکت اپنے سیلون کے دروازے میں آ کر کھڑے ہوئے ٹاؤن کمیٹی کے ممبران اور ناظر اور وکلا ء صاحبان آپ کے استقبال کے لئے آگے بڑھے اور جملہ احباب نے یک زبان ہوکر نہایت بلند آواز سے آپ کو السلام علیکم کہا اس کے بعد اھلا و سھلا ومرحبا کا پُر جوش نعرہ بلند ہوا۔بعد ہ علی الترتیب پاکستان پائنده باد، صدر مملکت زنده باد، آئین نو زندہ باد اور ہمارا محبوب قائد زندہ باد کے پر جوش نعروں سے اسٹیشن اور اس کے ارد گرد کا سارا علاقہ گونج اٹھا اس دوران صدر مملکت مسکرا مسکرا کر اور