تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 431
تاریخ احمدیت 431 جلد 21 واجبی قیمت ادا کر دیں گے ان ہر دو افسروں نے اس درخواست کو معقول قرار دیتے ہوئے جماعت کی یہ درخواست منظور کر لی اور مناسب قیمت پر نیوسول لائنز کے علاقہ میں چار کنال کا ایک قطعہ اراضی جماعت احمد یہ سرگودھا کے پاس بیت الذکر کی تعمیر کی غرض سے فروخت کر دیا جماعت کی طرف سے مقررہ قیمت ادا کر دی گئی اور باقاعدہ رجسٹری ہوگئی۔چنانچہ جماعت احمد یہ سرگودھا نے میونسپل کمیٹی میں مسجد کا نقشہ بغرض منظوری داخل کرا دیا ، چاردیواری اور محراب کی منظوری پہلے ہی ہو چکی تھی اور جلدی پلاٹ کی چار دیواری مکمل کر کے اس میں با قاعدہ پنچگانہ نماز میں ادا کرنا شروع کر دی گئیں۔ابھی نمازوں کی ادائیگی پر ڈھائی ماہ ہوئے تھے کہ غیر از جماعت عناصر میں سے بعض متعصب لوگوں نے بعض بالائی افسروں تک بے جا شکائتیں پہنچا کر شور مچانا شروع کر دیا کہ احمدیوں کو اس جگہ مسجد تعمیر کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔اس سلسلہ میں ایک وفد کمشنر صاحب سرگودھا سے ملا جنہوں نے ارکانِ وفد کو یقین دلایا کہ اس بات کا فیصلہ ہونے تک کہ قادیانیوں کی یہ بیت الذکر تعمیر ہونی چاہیے یا نہیں اس کی تعمیر روک دی جائے گی اور اس کا فیصلہ عیدالاضحی (15 مئی 1962 ء) کے بعد جلدی کر دیا جائے گا۔اس خبر پر ہفت روزہ شعلہ (سرگودھا) نے 20 مئی 1962 ء کی اشاعت میں احمدیوں کی بیت الذکر کی تعمیر کے زیر عنوان لکھا:۔یادر ہے کمشنر سرگودھا نے 10 اپریل کو قادیانی جماعت کی درخواست پر نیوسول لائنز کے علاقہ میں مسجد کی تعمیر کے لئے پرائیویٹ معاہدے کے تحت چار کنال زمین-/1388 روپے فی کنال کے حساب سے فروخت کرنے کی منظوری دے دی تھی اور قادیانیوں نے نہایت تیزی سے میونسپل کمیٹی سے نقشہ منظور کرا کر مسجد کی تعمیر شروع کر دی تھی۔مسجد قریباً تین فٹ اونچائی تک تعمیر ہو چکی ہے اور تعمیر نہایت تیزی سے جاری ہے وغیرہ ہم نہیں جانتے کہ حکام اعلیٰ اس مسئلہ کو کس طرح حل کریں گے یا کیسے حل کر چکے ہیں البتہ ہم حیران ہیں کہ کمشنر صاحب سرگودھا ڈویژن نے وفد کے خیالات سننے کے بعد مذکورہ مسجد کی تعمیر روک دینے کا احساس کیوں فرمایا ہے۔کیا انہیں مذکورہ مسجد کی تعمیر کے سلسلے میں عام مسلمانوں کے جذبات یا رد عمل کا احساس اُس وقت نہیں ہو سکا تھا۔جب وہ مذکورہ مسجد کی زمین کی فروخت کی منظوری دے رہے تھے۔