تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 419
تاریخ احمدیت 419 جلد 21 مولوی حبیب الرحمن صاحب دھام نگری کے شاگرد علماء اور دوسرے غیر احمدی اصحاب نے بھی حلفیہ دعا کی تھی کہ اگر مرزا غلام احمد قادیانی بچے نبی ہیں تو ہم پر عذاب شدید ایک سال کے اندر نازل ہو۔“ اس جھوٹی قسم کی پاداش میں یہ لوگ کس طرح عذاب شدید کی لپیٹ میں آگئے اور اکابر سے لیکر اصاغر تک غضب خداوندی کا نشانہ بن کر سخت ذلیل و رسوا ہوئے اسکی تفصیل پر بھی مولوی ہارون الرشید 66 صاحب نے ایک مبسوط مضمون میں روشنی ڈالی ہے۔جو اخبار ”بدر قادیان (24 اکتوبر تا 21 نومبر 1963ء) میں بالاقساط چھپ چکا ہے اور نہایت دردناک حالات پر مشتمل ہے۔خلاصہ ان کا یہ ہے کہ مباہلہ سورو میں سب سے نمایاں شخصیات تین تھیں۔1 - مولوی حبیب الرحمن صاحب دهام نگری 2۔مولوی عبد القدوس صاحب امام مسجد شنکر پور ( بھدرک) -3 مولوی شوکت علی صاحب ہیڈ مولوی مدرسہ نعمانیہ (بھدرک) یہی علماء عظام تھے جنہوں نے سورو کے عام مسلمان بھائیوں کو بہکایا اور پھر جماعت احمدیہ کے اصرار کے باوجو د میدان مباہلہ میں پبلک کو ایک دوسرے کے عقائد سے روشناس کرانے کے قیمتی موقعہ سے محروم رکھا۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی گرفت بھی ان پر زیادہ رہی۔مولوی حبیب الرحمن صاحب بریلوی فرقہ کے مشہور عالم دین تھے جن کا مباہلہ سے قبل اس علاقہ میں طوطی بولتا تھا اور بوجہ زمینداری اور اچھی پوزیشن کا مالک ہونے کے ایسا اثر و رسوخ تھا کہ کسی کو اُن کے سامنے دم مارنے کی جرات نہ ہوتی تھی کسی غریب پر ناراض ہوتے تو اس کی شامت آ جاتی اور جینا محال ہو جاتا۔اپنی اسی قوت و طاقت کے بل بوتے پر وہ جماعت احمدیہ کے خلاف نبرد آزما ہوئے اور مباہلہ کی طرح ڈالی مگر خدا کی شان دیکھو کہ مباہلہ سورو کے بعد اُن پر مصائب و آفات کے پہاڑ ٹوٹ پڑے خود ان کی برادری نے جو اپنی خاندانی وجاہت کے باعث بڑے احترام کی نگاہ سے دیکھی جاتی تھی اُن کا بائیکات کر دیا اور وہ عقیدتمند جو اُن کی قدم بوسی کو موجب سعادت سمجھتے اور انہیں ”حضرت“ کے نام سے یاد کرتے تھے کھلم کھلا مخالف ہو گئے اور نوبت یہاں تک آن پہنچی کہ ان کے ہم مسلک عالم مولانا احسن الہدی صاحب اور ان کے ساتھیوں کی طرف سے اُن کے خلاف سخت توہین آمیز اشتہارات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔دارالافتاء بریلی نے اُن کے خلاف پے درپے فتاوی دیئے جن کی علاقہ بھر میں وسیع پیمانہ پر اشاعت ہوئی جس سے اُن کی زندگی سخت تلخ ہوئی۔