تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 361
تاریخ احمدیت 361 جلد 21 اخبارات نے ماہ مئی میں مسجد کی فوٹو شائع کرتے ہوئے لکھا ”یہ مسجد جماعت احمدیہ نے قائم کی ہے اور یہ 66 جماعت بڑی کامیابی سے تبلیغ اسلام کر رہی ہے۔چوہدری صاحب نے 23 ستمبر کو بین الاقوامی ادارہ کے 25 افراد کو خطاب کر کے سوالوں کے جواب دئے۔10 اکتوبر کو یونیورسٹی کے طلبہ کے سامنے موجودہ حالات کا حل اسلامی تعلیمات کی روشنی میں “ کے موضوع پر تقریر کر کے حاضرین میں لٹریچر تقسیم کیا۔31 اکتوبر کو مسجد میں ”اسلام کی اہمیت پر تقریر کی جسکے بعد سوالوں کے جواب دئے اور لٹریچر تقسیم کیا۔نومبر کے اوائل سے کریچن اکاڈمی کے تحت ایک پادری ہر ہفتہ اسلام کے بارہ میں غلط فہمیاں پھیلا تا تھا۔چوہدری صاحب نے پادری کی تین تقاریر میں شامل ہو کر اسکے اعتراضات کا جواب دیا جس کا سامعین پر خوش گوار اثر ہوا۔15 نومبر کو ہیمبرگ کے مضافاتی قصبہ کی اصلاحی انجمن کے تحت آپ کا لیکچر ہوا جس کے بعد آپ نے سوالوں کے جواب دئے اور لٹریچر تقسیم کیا۔21 نومبر کو 27 مصری احباب پر مشتمل ایک وفد مسجد کی زیارت کے لئے آیا اور بے حد مسرور ہوا۔وفد نے GUEST BOOK میں لکھا: ”تمام مسلمان جماعت احمدیہ کے ممنون ہیں کہ اس نے خدا تعالیٰ کا نام بلند کرنے اور اسلام کی اشاعت کے لئے یورپ بھر میں مشن و مساجد قائم کر دی ہیں“۔وفد کولٹر پچر دینے کے علاوہ ان کے استفسارات کے جواب بھی دئے گئے۔28 نومبر کو چوہدری صاحب نے اسلام میں عورت کا مقام“ کے موضوع پر خطاب کیا۔اس اجلاس کی حاضری باقی سب اجلاسوں سے زیادہ تھی۔اجلاس میں مشہور مستشرق پروفیسر ڈاکٹر شپولر (صدر شعبہ اسلامک سٹڈیز ہیمبرگ) نے بھی شمولیت اختیار کی۔پروفیسر موصوف نے چوہدری صاحب کی تقریر کے بعد اپنے خطاب میں قرآن کریم کی تعلیم کو قابل تعریف قرار دیا۔24 اکتوبر کو نومسلم جرمن و ہلم ناصر نکولسکی نے مسلم ممالک اور اسلام“ کے موضوع پر ایک علمی مجلس کی دعوت پر تقریر کی۔بعد ازاں لٹریچر تقسیم کیا۔2 اکتو بر کو جرمن ٹیلی وژن نے اسلام کے بارہ میں ایک تفصیلی رپورٹ نشر کرتے ہوئے احمد یہ مشن کا تعارف کرایا۔آخری سہ ماہی میں نیوی کے ایک افسر نے بیعت کی۔سکنڈے نیویا انڈونیشیا کے صدر ڈاکٹر سو کارنو وسط 1961 ء میں ڈنمارک تشریف لے گئے۔مبلغ سکنڈے نیویا جناب کمال یوسف صاحب نے صدر صاحب موصوف سے دو دفعہ ملاقات کی اور قرآن مجید کا ڈینش ترجمہ