تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 359 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 359

تاریخ احمدیت 359 جلد 21 بھاری اعانت کی۔ملازمت کے دوران انہوں نے سعودی فرمانروا شاہ فیصل سے بھی ملاقات کی اور ملک میں بعض کارآمد اور نئی معدنیات کے انکشافات پر داد حاصل کی۔علاوہ ازیں سعودی ڈائریکٹر جنرل معد نیات شریف اے قاسم نے 14 اکتوبر 1962ء کو سفیر پاکستان کو ایک خصوصی مراسلہ لکھا جس میں جناب مہتہ صاحب کی اعلیٰ کارکردگی پر مبارک باد کے ساتھ حکومت پاکستان کا شکر یہ ادا کیا کہ ایک پاکستانی جیالوجسٹ نے معد نیاتی تلاش میں اپنا بھر پور کردار ادا کر کے اپنے ملک کے نام کو دوسروں سے بلند اور بالا ثابت کر کے دکھایا ہے۔راولپنڈی کا اخبار " VIEW POINT" اکتوبر 1987 ء کے الیشوع میں لکھتا۔ترجمہ :۔یعنی مسٹر مہتہ نے جو اپنے ملک میں ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے تھے سعودی عرب میں ایک جیالوجسٹ کی حیثیت سے محکمہ معدنیات میں ملا زمت حاصل کر لی۔انہوں نے محکمہ کے حکام اعلیٰ کو زمین میں پوشیدہ خزانوں کے بے نقاب کرنے میں اپنی پُر اسرار صلاحیت سے خوشگوار حیرت بخشی۔انکی ایک غیر معمولی دریافت میگنسائٹ (MAGNESITE) کے وسیع تجارتی ذخائر تھے جن کا اندازہ 4 ملین ٹن کا لگایا گیا تھا۔یہ ایک اہم صنعتی چٹان ہے۔یہ سیمنٹ فیکٹری سٹیل مل اور اونچے درجہ حرارت کی بھٹیوں میں استعمال ہوتا ہے۔انہوں نے فلورائٹ (FLUORITE) ، سیلیکا سینڈ SILICA) ہے: (SAND اور پزلون میٹیریل (PUZZOLON MATERIALS) کا بھی پتہ دیا۔سعودی عرب کے حکمران شاہ فیصل کو گا ہے لگا ہے مہتہ صاحب کے بارے میں اطلاعات ملتی رہتی تھیں۔شاہ فیصل نے انکو شاہی دربار میں آنے کی دعوت دی جہاں انکی کامیابیوں کا اعلانیہ بیان کیا گیا۔1972ء میں مہتہ صاحب سعودی عرب سے واپس آئے۔