تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 329
تاریخ احمدیت 329 جلد 21 ایک بار آپ نے حضور سے عرض کی کہ میرے والد سخت مخالف ہیں دعا کریں کہ سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہو جائیں۔اللہ تعالیٰ نے حضور کی یہ دعا بھی قبول فرمائی اور آپ کے والد احمدی ہو گئے۔محترم ماسٹر صاحب 1906ء میں مستقل طور پر ہجرت کر کے قادیان آگئے اور عرصہ تک تعلیم الاسلام ہائی سکول میں ڈرل ماسٹر کے فرائض بجالاتے رہے۔حضرت مستری عبدالسبحان صاحب (لاہوری) درویش: ولادت قریباً 1885ء۔بیعت جنوری 1903ء۔وفات 23 اپریل 1961 ء محلہ سمیاں لاہور کے باشندے تھے۔اس محلہ میں گورنمنٹ سکول کے ایک ماسٹر قاضی غلام قادر صاحب رہتے تھے۔پہلے انہوں نے پھر ان کے بیٹے عبد الغنی صاحب نے ( جو بعد میں اسلامیہ کالج لاہور کے پروفیسر بنے اور اس وقت تعلیم پاتے تھے ) آپ کو سید نا حضرت مسیح موعود کی بیعت کرنے کی تحریک کی۔آپ نے جواب دیا میری غرض بیعت سے خدا تعالیٰ دیکھنا ہے۔کہنے لگے یہ ناممکن ہے۔آپ نے عبد الغنی صاحب سے کہا کہ حضور کو میری طرف سے نہایت ادب سے خط لکھو۔چنانچہ انہوں نے آپ کی نسبت خط لکھا۔حضور کی طرف سے یہ عنایت نامہ صادر ہوا کہ ” دل لگا کر نماز میں پڑھو اور اپنی زبان میں دعائیں مانگتے رہو۔یہی طریقہ ہے اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا۔ان الفاظ سے آپ کو پورا یقین اور اطمینان قلب نصیب ہو گیا۔جنوری 1903 ء میں حضرت مسیح موعود قادیان سے سفر جہلم کے دوران لاہور تشریف لائے اور حضرت میاں چراغ الدین کے مکان پر قیام فرما ہوئے۔مستری عبدالسبحان صاحب رات کے وقت مکان پر پہنچے اور دوسرے دن صبح کو حضور کے دست مبارک پر بیعت کر لی۔مئی 1908ء جو اصحاب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نعش مبارک کے ساتھ لاہور سے 53 قادیان تشریف لے گئے تھے ان میں آپ بھی شامل تھے۔آپ ہجرت کر کے قادیان آگئے اور محلہ دار الفتوح میں بود باش اختیار کر لی تھی۔تقسیم ملک کے وقت آپ نے مقامات مقدسہ کی حفاظت کے لئے درویشانہ زندگی کو تر جیح دی۔آپ کو معماری کے کام سے شغف تھا اس لئے آپ با وجود پیرانہ سالی کے ابتدائی زمانہ درویشی میں بطور نجار مخلصانہ خدمت بجالاتے رہے مگر کچھ عرصہ بعد آپ کی صحت نے جواب دے دیا تو آپ نے اپنے رہائشی کمرہ میں تلاوت قرآن کریم اور کتب حضرت مسیح موعود کے مطالعہ میں مصروف ہو گئے۔آنکھوں کی بینائی آخری دم تک قائم رہی اور عینک کی مدد کے بغیر بآسانی پڑھ سکتے تھے۔54