تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 328 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 328

تاریخ احمدیت 328 جلد 21 دوستوں کے ہمراہ حضرت صاحب کے مکان کے آگے چارپائی بچھا کر سویا۔اور کئی دوست بھی چار پائیاں بچھا کر میرے ساتھ سو گئے۔یہ چور کا واقعہ بھی انہی دنوں کا ہے۔خاکسار عبدالغنی حضرت ماسٹر مامون خان صاحب سابق ڈرل ماسٹر ہائی سکول قادیان ولادت 1871ء۔بیعت بذریعہ خط 1904 ء۔زیارت و دستی بیعت 1906 ء وفات 21 اپریل 1961 ء۔اصل وطن ماچھی واڑہ تحصیل سمرالہ ضلع لدھیانہ۔آپ ماچھی واڑہ سکول میں ایک مخلص احمدی سید محمد شاہ صاحب ماچھی واڑہ کے ساتھ ملازم تھے کہ 1902ء میں آپ نے خواب دیکھا کہ چاند آسمان سے ٹوٹ کر آپ کی جھولی میں آپڑا ہے۔سید محمد شاہ صاحب نے اس کی تعبیر یہ کی کہ تمکو عزت ملے گی یا کسی بزرگ کی بیعت کرو گے اور ساتھ ہی تبلیغ کا سلسلہ شروع کر دیا جو بالآخر آپ کی بیعت پر منتج ہوا۔گنگا بشن جس نے حضرت مسیح موعود کے سامنے قتل لیکھر ام کے سلسلہ میں قسم کھانے پر آمادگی ظاہر کرنے کے بعد فرار اختیار کیا۔19 ماچھی واڑہ ہی کا باشندہ اور محکمہ پولیس کا عہد یدار تھا۔مامون خان صاحب اپنی خودنوشت روایات میں اسکی نسبت لکھتے ہیں کہ : " حضرت مسیح موعود کی دعا اس پر بھی ہم نے کارگر دیکھی۔کہ مسمی گنگا بشن۔۔۔۔ایک سال متواتر عذاب کی موت سے ہلاک ہوا۔پہلے اندھا ہوا۔پھر فالج گرا۔دوسروں کی پیٹھ پر سوار ہو کر ہسپتال اور حکیموں کے پاس جاتا رہا۔۔۔۔ہائے مجھے کیا ہوا ہے مجھے کیا ہوا ہے کی منحوس آوازیں نکالتا ہوا بڑے عذاب کی موت سے ایک سال متواتر عذاب کے بعد مرا جو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سچائی کا مؤید بنا ( اور ) ہمارے لئے ہدایت کا موجب ہوا۔یہ نشان آپ نے بیعت سے قبل دیکھا۔ایمان لانے کے بعد کا واقعہ ہے کہ آپ کی اہلیہ جنت بی بی صاحبہ تپ دق کی مرض میں مبتلا ہو گئیں۔آپ نے حضرت اقدس مسیح موعود کی خدمت میں لکھا کہ اب تو میں بے امید ہو چکا ہوں۔آپ مسیح ہیں میری اہلیہ کی صحت اور زندگی کے لئے دعا کرو“۔جس پر حضور نے درددل سے دعا کی۔آپ کی بیوی کا عارضہ گھٹنے لگا۔یہاں تک کہ اسکو خدا نے مکمل شفا دی اور ایک لڑکا بھی عطا کیا جس کا نام عبد الرحمان رکھا گیا جو 26 سال تک زندہ رہا۔