تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 312
تاریخ احمدیت 312 جلد 21 آبدیدہ ہو جاتے اور حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی تکلیف کا علم ہونے پر آپ ماہی بے آب کی طرح تڑپتے۔1948ء میں حضرت بھائی عبد الرحیم صاحب اور آپ جیسے بزرگوں کو جنہیں تقسیم ملک کے وقت حکماً قادیان سے نکلنا پڑا تھا۔قادیان بھجوانے کا مقصد حضور کے پیش نظر یہی ہوگا کہ ان بزرگوں کے تقویٰ، تہجد گزاری ، عبادت میں انہاک، رجوع الی اللہ آنحضرت صلعم اور حضرت مسیح موعود سے عشق ، اسلام پر فدائیت، خلافت سے وابستگی وغیرہ کا اسوۂ حسنہ درویشوں کے سامنے رہے اور قولاً اور فعلاً اپنے بلند معیار کے ذریعہ ہمارے لئے مشعل راہ ثابت ہوں۔اور در حقیقت ان کا ایسا ہی مقام تھا۔اور حضور کے دل میں ان کا حد درجہ احترام تھا۔چنانچہ مکرم صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب کے نام ایک مکتوب میں حضور نے ان دو بزرگوں کو سلام لکھا۔1953ء والے خلاف احمدیت فسادات سے 1 بہت قبل سید نا حضور اید اللہ تعالیٰ نے اپنی دور بین نگاہ سے آئندہ پیش آنے والے حالات کو بھانپ لیا تھا۔چنانچہ حضور نے ان دونوں کو اپریل 1950ء میں ذیل کا مکتوب بذریعہ رجسٹری ارسال فرمایا تھا: مگر می شیخ عبدالرحیم صاحب و بھائی عبدالرحمن صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آج کل کچھ ذاتی پریشانیوں اور کچھ سلسلہ کی پریشانیوں کی وجہ سے طبیعت پر بہت بوجھ ہے۔یہ پریشانیاں بہت سخت ہیں اور سلسلہ کے کام کو سخت دھکا لگنے کا احتمال ہے اس لئے یہ خط تحریر ہے۔کہ آپ اور دوسرے ایسے احباب جو دعائیں کرنے کے عادی ہیں بیت الدعاء، مسجد مبارک اور مسجد اقصیٰ اور مقبرہ بہشتی میں جا کر جب موقعہ ملے اور صحت اجازت دے دعائیں کریں کہ ان ذاتی اور جماعتی پریشانیوں کو (وہ) دور فرمائے۔اور سلسلہ کو عظیم اور پراگندگی سے محفوظ رکھے۔اور دعا کے علاوہ استخارہ بھی کریں کہ شاید اللہ تعالی کوئی تسلی بخشے۔اور کوئی راہ اور تجویز بلیات سے نجات کی تجویز کرے۔نقصان والسلام خاکسار مرز امحموداحمد لاکھوں کی جماعت میں آپ مسلم ومحترم بزرگ تھے۔آنکھیں ترسیں گی لیکن ایک ہاتھ میں عصا تھامے اور دوسرے ہاتھ سے کسی درویش کے کندھے کا سہارا لئے اور سر پر روئی دار گدی رکھے (جسے آپ نماز کی جگہ فرش کی سختی سے بچنے کے لئے رکھتے تھے ) آپ کو نہ