تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 297
تاریخ احمدیت 297 تیسرا باب جلیل القدر رفقاء مسیح موعود کا انتقال جلد 21 1961ء میں متعدد نامور اور جلیل القدر رفقاء مسیح موعود انتقال فرما گئے جن کا تذکرہ ذیل میں کیا جاتا ہے۔ابوالبشارت حضرت مولانا عبدالغفور صاحب مبلغ سلسلہ (ولادت 26/25 دسمبر 1898ء ( پیدائشی احمدی)، زیارت 1907ء وفات 4 جنوری 1961 ء۔معروف بزرگ صحابی حضرت میاں فضل محمد صاحب آف ہرسیاں ضلع گورداسپور کے فرزندِ اکبر۔سلسلہ کے مشہور مناظر و عالم اور تحریک جدید کی پانچ ہزاری فوج کے مجاہد ) آپ ابھی بچے ہی تھے کہ آپ کے والد صاحب نے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پیش کر کے خدمت دین کے لئے وقف کر دیا۔آپ تحریر فرماتے ہیں: مجھے خوب یاد ہے کہ میری والدہ محترمہ نے بچپن ہی سے اپنے بچوں کو دینی تعلیم دینی شروع کر دی تھی اور خدا کی تو حید اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت کے متعلق بھی ہم کو بہت کچھ سکھاتی رہتی تھیں۔۔۔۔میرے والدین کو ( اللہ تعالیٰ ان پر بڑے بڑے فضل نازل فرمائے) جہاں اپنے بچوں کی اصلاح کا بہت شوق تھا وہاں وہ خود بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت سے بہت فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہتے تھے اور بار بار قادیان آتے رہتے تھے۔ان دنوں چونکہ میں ہی اپنے والدین کے گھر بڑا لڑکا تھا اس لئے مجھے بھی ساتھ لے آیا کرتے تھے اور اس طرح مجھے بھی خدا کے پیارے اور مقدس مامور حضرت مسیح موعود کی زیارت کا موقع مل گیا۔گھر کے ماحول میں ابتدائی دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ مدرسہ احمدیہ میں داخل ہوئے اور 1924ء میں مولانا ابوالعطاء صاحب، مولانا محمد عبد اللہ صاحب مالا باری، مولانا تاج دین صاحب لائکپوری جیسے جید علماء کے ساتھ مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا اور پھر قریباً دو سال تک حضرت حافظ روشن علی صاحب کی مبلغین کلاس میں تبلیغی ٹریننگ حاصل کرتے رہے۔مئی 1926 ء سے جبکہ ابھی آپ کلاس میں تھے آپ کے قلم سے اخبار ” فاروق ( قادیان) میں تبلیغی مضامین چھپنے شروع ہوئے۔اس سال کے ماہ ستمبر اکتوبر