تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 20 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 20

تاریخ احمدیت 20 عید الفطر کی تقریب ڈنمارک کی سرحد کے ایک شہر (MALMO) میں بھی منائی گی۔عید کی نماز برادرم عبدالسلام صاحب میڈسن نے پڑھائی۔نماز میں یوگوسلاویہ کے چار مسلمان بھی شامل ہوئے جو اس موقعہ پر بیعت کر کے جماعت میں شامل ہوئے۔یہ چاروں دوست پہلے سے زیر تبلیغ تھے۔چنانچہ جب خاکسار نے اس شہر میں تقریر کی تھی تو یہ دوست اس میں شامل ہوئے تھے۔اور ان سے تقریر کے بعد دیر تک تبلیغی گفتگو کرنے کا موقع ملا تھا۔مؤرخہ 14 ستمبر کو ہم نے (HAMMANWE) کے مقام پر تبلیغی مجلس کا انعقاد کیا۔یہ جگہ مغربی جرمنی میں بہت اہمیت کی حامل ہے۔یہاں پر ہر سال ” بین الاقوامی صنعتی نمائش منعقد ہوتی ہے یہ اپنی قسم کی واحد اور ساری دنیا کی نمائندہ تسلیم کی جاتی ہیں۔اس طرح یہ شہر جرمنی اور بین الااقوامی ماحول کا ایک دل کش امتزاج پیش کرتا ہے۔یہاں پر اسلام کی تعلیمات کے بارہ میں نہایت شرح وبسط سے تقریر کی تو فیق ملی جس کے بعد سوال و جواب کا دلچسپ سلسلہ دیر تک جاری رہا۔لٹریچر تقسیم کیا گیا اور خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے یہ تقریر نہایت مؤثر ثابت ہوئی۔چنانچہ ہمبرگ یو نیورسٹی کی ایک طالبہ ( جو اس تقریب میں شامل تھی بعد میں ہماری مسجد میں آئی اور اس تقریر کا تذکرہ کیا اور بتایا کہ اسی کے باعث اسے اسلام سے دلچسپی پیدا ہوئی اور مسجد دیکھنے آئی ہے۔دوسری تقریر 27 ستمبر کو مشہور عالم ادارہ کی دعوت پر کی سیہ ادارہ طلباء کی ذہنی ترقی اور معلومات میں اضافہ کے سلسلہ میں قابل قدر خدمات سرانجام دے رہا ہے۔بین الاقوامی مسائل کے بارہ میں ملک گیر بلکہ بین الاقوامی شہرت رکھنے والے پروفیسروں مستشرقین اور دیگر اہل علم لوگوں کی تقاریر کروائی جاتی ہیں۔اس ادارہ کی مجلس عاملہ نے اسلام اور پاکستان کے بارہ میں تقریر کرنے کے لئے خاکسار کو منتخب کیا اور 27 ستمبر کی تاریخ مقرر کی۔چنانچہ خاکسار نے اس منتخب محفل میں تقریر کی جسے حاضرین نے نہایت دلچسپی سے سنا اور بعد ازاں سوالات کے ذریعہ مزید معلومات حاصل کرنی چاہیں۔جس پر خاکسار نے ان کے سوالات کے جوابات دئے۔طلباء نے خاص طور سے اسلام کے بارہ میں سوالات کئے اور اس موضوع پر اتنی دلچسپی کا اظہار کیا کہ مجلس عاملہ نے مجھے دوسری بار دعوت دینے کا فیصلہ کیا۔بعد ازاں لٹریچر تقسیم کیا گیا اور طلباء کی دلچسپی اور میری تعظیم کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب تک ایک ایک طالب علم ان کتب پر میرے دستخط نہ لے چکا اس جلد 21